جنوبی ایشیا کی سیاست میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایک طرف بھارت اپنے شمال مشرقی علاقے اور حساس سلیگوری کوریڈور کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، تو دوسری جانب پاکستان، چین اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات نے نئی جغرافیائی اور اسٹریٹجک بحث کو جنم دے دیا ہے۔
بھارت کے لیے سب سے بڑا خدشہ سلیگوری کوریڈور ہے، جسے عام طور پر ’’چکن نیک‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک نسبتاً تنگ زمینی راستہ ہے جو بھارت کے شمال مشرقی علاقوں کو ملک کے باقی حصوں سے ملاتا ہے۔ بھارت کی لاجسٹک، دفاعی اور مواصلاتی ضروریات کے لیے یہ کوریڈور انتہائی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے بھارت اپنی ’’سیون سسٹرز‘‘ ریاستوں سے رابطہ برقرار رکھتا ہے۔
بنگلہ دیش کا بدلتا ہوا جغرافیائی کردار
حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون رہا، تاہم سیاسی تبدیلیوں کے بعد ڈھاکا کے بیجنگ اور اسلام آباد کے ساتھ تعلقات میں نمایاں گرمجوشی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
چین پہلے ہی بنگلہ دیش میں انفراسٹرکچر، ریلوے، سڑکوں، توانائی، ٹیکسٹائل اور دیگر شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین کا خیال ہے کہ بنگلہ دیش چین کے لیے صرف ایک اقتصادی شراکت دار نہیں بلکہ خطے میں ایک اہم اسٹریٹجک مقام بھی بن سکتا ہے۔
چین کی نظریں خلیج بنگال پر بھی مرکوز ہیں۔ بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں اور بندرگاہوں میں بڑھتی ہوئی چینی دلچسپی بھارت کے لیے باعثِ تشویش ہے، کیونکہ اس سے چین کو بحر ہند کے قریب اپنی موجودگی مضبوط کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
تیستا منصوبہ اور بھارت کے لیے تشویش
بنگلہ دیش اور چین کے درمیان تیستا دریا سے متعلق منصوبے بھی بھارت کی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں۔ بھارت طویل عرصے سے بنگلہ دیش کے ساتھ تیستا پانی کے مسئلے اور اس سے متعلق منصوبوں پر بات چیت کرتا رہا ہے۔
اگر تیستا منصوبے میں چین کا کردار بڑھتا ہے تو یہ صرف پانی یا ترقیاتی منصوبے کا معاملہ نہیں رہے گا بلکہ اس کے وسیع تر جغرافیائی اور اسٹریٹجک اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ چین خطے میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، اور بنگلہ دیش اس حکمت عملی کا ایک اہم حصہ بن سکتا ہے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے تعلقات
پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بھی حالیہ عرصے میں نئی سرگرمی دیکھی گئی ہے۔ دفاعی تعاون، بحری روابط اور سفارتی قربت نے بھارت کے لیے نئی تشویش پیدا کی ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون پہلے ہی مضبوط ہے۔ چین پاکستان کو جنگی طیارے، آبدوزیں اور دیگر دفاعی سازوسامان فراہم کرتا ہے۔ اگر مستقبل میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دفاعی تعاون مزید بڑھتا ہے تو بھارت کے لیے یہ ایک نئی سیکیورٹی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض بھارتی تجزیہ کار اس صورتحال کو بھارت کے خلاف ایک ممکنہ ’’دو طرفہ دباؤ‘‘ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
لال مونی ہاٹ ایئرپورٹ اور سلیگوری کوریڈور
بنگلہ دیش کے شمالی علاقے میں لال مونی ہاٹ کے قریب موجود ہوائی پٹی کی ترقی بھی بھارتی دفاعی ماہرین کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔ یہ علاقہ بھارت کے حساس سلیگوری کوریڈور کے نسبتاً قریب سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ بنگلہ دیش کی جانب سے کسی بھی ترقیاتی منصوبے کو تجارتی یا شہری ضرورت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، لیکن بھارت کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں چین اس نوعیت کے انفراسٹرکچر کو اسٹریٹجک مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
یہی وہ نقطہ ہے جہاں اقتصادی منصوبے اور دفاعی حکمت عملی ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔
چین کی ’’اسٹرنگ آف پرلز‘‘ حکمت عملی
چین کی خطے میں حکمت عملی کو اکثر ’’اسٹرنگ آف پرلز‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس تصور کے مطابق چین بحر ہند اور جنوبی ایشیا میں مختلف ممالک کے ساتھ اقتصادی، سفارتی اور دفاعی روابط کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ کا دائرہ وسیع کر رہا ہے۔
پاکستان میں گوادر، سری لنکا میں ہمبن ٹوٹا، بنگلہ دیش میں چینی سرمایہ کاری اور دیگر ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کو اسی وسیع تر علاقائی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
چین کا مقصد صرف بھارت کو گھیرنا ہے یا یہ اس کی عالمی طاقت بننے کی حکمت عملی کا حصہ ہے؟ اس سوال پر ماہرین کی رائے مختلف ہے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ بھارت کے اردگرد چین کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
کیا بھارت واقعی چار اطراف سے دباؤ میں ہے؟
بھارت کی جغرافیائی صورتحال پیچیدہ ہے۔ شمال میں چین، مغرب میں پاکستان، شمال مشرق میں بنگلہ دیش اور شمالی سمت میں نیپال موجود ہیں۔ ان میں سے کئی ممالک کے ساتھ بھارت کے تعلقات میں کبھی قربت اور کبھی کشیدگی دیکھی جاتی ہے۔
بھارت کے لیے مسئلہ صرف روایتی جنگ نہیں رہا۔ جدید دور میں ہائبرڈ وارفیئر، ڈرونز، سائبر حملے، مصنوعی سیارے، اطلاعاتی جنگ اور اندرونی شورش جیسے عوامل بھی قومی سلامتی کا حصہ بن چکے ہیں۔
اسی لیے سلیگوری کوریڈور کی حفاظت صرف فوجی تعیناتی سے ممکن نہیں۔ بھارت کو انفراسٹرکچر، انٹیلی جنس، سائبر سیکیورٹی اور مقامی سطح پر سیاسی و سماجی استحکام پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
اصل خطرہ کہاں ہے؟
اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان، چین اور بنگلہ دیش لازماً بھارت کے خلاف کوئی مشترکہ فوجی محاذ بنائیں گے۔ ایسا کہنا فی الحال قیاس آرائی ہوگا۔
اصل تشویش یہ ہے کہ اگر ان ممالک کے درمیان اقتصادی، دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون مسلسل بڑھتا رہا تو بھارت کے شمال مشرقی علاقے پر دباؤ ضرور بڑھ سکتا ہے۔
چین کے لیے بھارت ایک اہم علاقائی حریف ہے، لیکن اس کا سب سے بڑا عالمی مقابلہ امریکہ کے ساتھ ہے۔ بھارت اور چین کے درمیان بھی معاشی، سرحدی اور جغرافیائی مقابلہ موجود ہے، تاہم چین کی عالمی طاقت بننے کی حکمت عملی میں بھارت ایک اہم رکاوٹ ضرور سمجھا جاتا ہے۔
نتیجہ
جنوبی ایشیا ایک نئے جغرافیائی اور اسٹریٹجک دور میں داخل ہو چکا ہے۔ بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی، پاکستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط اور چین کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری نے بھارت کے لیے نئی سیکیورٹی بحث پیدا کر دی ہے۔
سلیگوری کوریڈور کی حساسیت اپنی جگہ موجود ہے، لیکن کسی بھی صورتحال کو فوری طور پر جنگ یا سازش کا نام دینا درست نہیں ہوگا۔ اصل صورتحال کو سمجھنے کے لیے زمینی حقائق، سرکاری پالیسیوں، دفاعی معاہدوں اور حقیقی انفراسٹرکچر منصوبوں کا غیر جانب دارانہ جائزہ ضروری ہے۔
تاہم یہ بات واضح ہے کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات بھارت کے لیے ایک نیا اسٹریٹجک چیلنج ضرور پیدا کر رہے ہیں، اور آنے والے برسوں میں سلیگوری کوریڈور سمیت بھارت کے شمال مشرقی علاقے خطے کی جغرافیائی سیاست کا اہم مرکز بن سکتے ہیں۔
