روس اور چین کا پاکستان کے حق میں بڑا اسٹریٹجک پیغام: کیا بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے؟

عالمی سیاست اور جیو پولیٹکس میں توازن بڑی تیزی سے بدل رہا ہے۔ حال ہی میں روس اور چین کی “حسنِ پڑوسی و دوستانہ تعاون کی معاہدے” کو 25 سال مکمل ہونے پر اسلام آباد میں ایک انتہائی غیر معمولی سفارتی پیش رفت دیکھنے میں آئی۔
پاکستان میں متعین روسی سفیر (البرٹ پی کورو) اور چینی سفیر (جیانگ زیڈونگ) نے ایک مشترکہ مقالہ (Joint Article) شائع کیا، جس میں پاکستان کے اسٹریٹجک مقام کی کھل کر تعریف کی گئی اور مستقبل میں پاکستان کے ساتھ سہ فریقی و علاقائی تعاون کو مزید بڑھانے کا عزم ظاہر کیا گیا۔
یہ اقدام محض ایک سفارتی رسمی کارروائی نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے جنوبی ایشیا اور عالمی سطح پر ایک بہت بڑا اسٹریٹجک پیغام چھپا ہوا ہے۔

25 سالہ دوستی اور عالمی توازن کا نیا ماڈل
روسی اور چینی سفیروں نے اپنے مشترکہ آرٹیکل میں 2001 کے تاریخی معاہدے اور 1996 کے اعلامیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روس اور چین کا تعلق مساوات، باہمی احترام اور یکساں فائدے (Mutual Benefits) پر مبنی ہے۔
آج کی بدلتی ہوئی دنیا میں جہاں بلاک سیاست عروج پر ہے، روس اور چین نے اپنے تعلقات کو ایک “کثیر القطبی دنیا” (Multipolar World) کے لیے مثال قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ SCO (شنگھائی تعاون تنظیم)، BRICS، APEC اور G20 جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے خطے میں امن اور استحکام کے لیے کام جاری رہے گا۔

پاکستان کے اسٹریٹجک کردار اور افغانستان پر توجہ
اس مشترکہ مقالے میں پاکستان کی جیو اسٹریٹجک اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا گیا کہ خطے کے امن میں پاکستان کا کردار مرکزی ہے۔

افغانستان میں استحکام: دونوں ممالک کے سفیروں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں پائیدار امن کے لیے افغانستان کا امن ضروری ہے۔ اس سلسلے میں “ماسکو فارمیٹ کنسلیٹیشن” کے ذریعے علاقائی تعاون کو مزید موثر بنانے کا اعادہ کیا گیا۔
علاقائی تجارتی و توانائی راہداری: روس اب اس بات کو اچھی طرح سمجھ رہا ہے کہ پاکستان، چین اور روس کا اشتراک جنوبی اور وسطی ایشیا میں تجارتی و توانائی کے نئے راستے کھول سکتا ہے۔
کیا روس بھارت سے دور ہو رہا ہے؟
اس بلاگ اور تجزیے کا سب سے اہم اور حساس پہلو بھارت اور روس کے تعلقات میں آنے والی خاموش تبدیلی ہے۔
تاریخی طور پر بھارت کا جھکاؤ روس (اور ماضی کے سوویت یونین) کی طرف رہا ہے، خصوصاً ملٹری آلات اور خام تیل کے معاملے میں۔ لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے حالات بدل رہے ہیں:

بھارت کا مغربی بلاک کی طرف جھکاؤ: بھارت کا جھکاؤ تیزی سے امریکہ، یورپ اور مغربی طاقتوں کی طرف ہو رہا ہے۔ نئے ملٹری معاہدے، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تجارتی سودے اس بات کا واضح ثبوت ہیں۔
تجارتی عدم توازن (Trade Imbalance): روس اور بھارت کے درمیان تجارت یکطرفہ (One-way) ہے۔ بھارت، روس سے اربوں ڈالر کا تیل اور ہتھیار تو خریدتا ہے (تقریباً 50 سے 60 ارب ڈالر)، لیکن بھارت سے روس کو کی جانے والی برآمدات محض 5 سے 7 ارب ڈالر تک محدود ہیں۔
روسی برہم دلی کا خاموش اظہار: روس کھل کر بھارت پر تنقید نہیں کرتا، لیکن پاکستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات اور چینی سفیر کے ساتھ مل کر پاکستان کے حق میں مقالہ لکھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ماسکو اب دہلی کے متبادل راستے تلاش کر رہا ہے۔

پاکستان کے اندر روس اور چین کے سفیروں کا یہ مشترکہ اقدام ایک ایکسٹریم اسٹریٹجک موو (Extreme Strategic Move) ہے۔ یہ دنیا کو واضح پیغام دیتا ہے کہ:

“پاکستان اب اس نیا ابھرتے ہوئے ‘روس-چین بلاک’ کا ایک انتہائی اہم اور ناگزیر حصہ بن چکا ہے۔”
بھارت کا امریکہ کی طرف حد سے زیادہ جھکاؤ روس کے لیے ناگواری کا باعث بن رہا ہے، اور اسی کا نتیجہ ہے کہ ماسکو اب اسلام آباد کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک نئی بلندی پر لے جانے کے لیے سنجیدہ نظر آتا ہے۔ ان بدلتے حالات میں پاکستان کے لیے عالمی و علاقائی سیاست میں ایک نیا اور مضبوط مقام حاصل کرنے کے زبردست مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں