
پاکستان میں ٹماٹر کی قیمتوں کو پر لگ گئے : 500 روپے کلو تک پہنچنے کی اصل وجوہات اور عوامی مشکلات
پاکستان کے روایتی باورچی خانے میں اگر کوئی ایسی سبزی ہے جسے ہر سالن کی بنیادی ضرورت اور روح سمجھا جاتا ہے، تو وہ ٹماٹر ہے۔ چاہے مسالے دار کڑاہی تیار کرنی ہو، دال کا تڑکا لگانا ہو یا شام کا تر و تازہ سلاد بنانا ہو، ٹماٹر کے بغیر کھانا مکمل محسوس نہیں ہوتا۔ تاہم آج کل یہی سرخ اور دلکش سبزی عام آدمی کے لیے ایک “سرخ نشان” بن کر سامنے آئی ہے۔ ملک بھر کی اوپن مارکیٹ میں ٹماٹر کی قیمتیں 400 سے 500 روپے فی کلو کی ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہیں، جس نے عوام کے پسینے چھڑا دیے ہیں اور کچن کا بجٹ مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔

آخر ایسا کیا ہوا کہ چند روپے فی کلو میں آسانی سے دستیاب ہونے والا ٹماٹر اچانک امیروں کی خوراک بن گیا؟ آئیے اس تشویشناک صورتحال کی بنیادی وجوہات اور حقائق کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں۔

موسم کی خرابی اور غیر متوقع بارشیں
پاکستان میں سبزیوں کی قیمتوں میں اچانک اور غیر معمولی اضافے کی سب سے بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں اور گلوبل وارمنگ کے اثرات ہیں۔ اس سال بے وقت اور شدید ترین بارشوں کے باعث ملک کے مختلف زرعی خطوں، بالخصوص سندھ اور بلوچستان میں، ٹماٹر کی تیار فصلوں کو شدید ترین نقصان پہنچا ہے۔ کھیتوں میں ہفتوں پانی کھڑا رہنے کی وجہ سے فصلیں گل سڑ کر تباہ ہو گئیں، جس کے نتیجے میں مقامی منڈیوں میں ٹماٹر کی رسد اچانک نا ہونے کے برابر رہ گئی۔

رسد اور مانگ کا شدید عدم توازن
معاشی معیشت کا بنیادی اور سادہ سا اصول ہے کہ جب کسی بھی شے کی طلب زیادہ ہو جائے اور اس کی رسد مارکیٹ میں کم ہو جائے، تو اس کی قیمتیں ازخود آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ پاکستان میں ٹماٹر کی روزانہ کی بنیاد پر کھپت اور مانگ بہت زیادہ ہے۔ مقامی فصلیں تباہ ہونے کی وجہ سے منڈیوں میں ٹماٹر کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی، جبکہ عوام کی روزمرہ کی ضرورت وہی رہی۔ اس شدید خلا کے باعث قیمتوں نے چند ہی دنوں کے اندر 100 روپے سے چھلانگ لگائی اور 500 روپے کی تاریخی سطح کو چھو لیا۔

مصنوعی ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری
بدقسمتی سے ہمارے ملکی نظام میں جب بھی کسی بنیادی اشیائے خوردونوش کی کمی پیدا ہوتی ہے، تو گراں فروش اور ذخیرہ اندوز طبقہ فوری طور پر متحرک ہو جاتا ہے۔ منڈیوں کے کچھ تاجر اور آڑھتی ٹماٹر کی مصنوعی کمی پیدا کر کے اسے منہ مانگے داموں فروخت کر رہے ہیں۔ لوکل انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی عملی ناکامی کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے عام دکاندار بھی شہریوں سے من مانے ریٹ وصول کر رہے ہیں اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں۔

ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات اور پٹرولیم کی قیمتیں
سبزیوں کو کھیتوں سے منڈیوں اور پھر وہاں سے مختلف شہروں تک منتقل کرنے کے لیے ایندھن کی مسلسل ضرورت ہوتی ہے۔ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے مال برداری کے کرائیوں میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ تمام تر اضافی سفری خرچہ بھی آخرکار عام صارف کی جیب سے ہی نکالا جاتا ہے، جس سے سبزی کی قیمت مزید بڑھ جاتی ہے۔

عوامی پریشانی اور کچن بجٹ کے متبادل حل
500 روپے کلو ٹماٹر خریدنا کسی بھی متوسط یا غریب خاندان کے لیے تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ ایک عام دیہاڑی دار طبقہ جس کی روزانہ کی آمدن 1000 یا 1200 روپے ہو، وہ آدھا کلو ٹماٹر پر اپنی آدھی دیہاڑی کیسے خرچ کر سکتا ہے؟
جب تک منڈیوں میں نئی فصل کی آمد شروع نہیں ہوتی اور قیمتیں مستحکم نہیں ہو جاتیں، تب تک ہم اپنے کچن کے بجٹ کو سنبھالنے کے لیے کچھ عملی متبادل طریقے اپنا سکتے ہیں:
سالن میں گریوی بنانے یا کھٹاس پیدا کرنے کے لیے ٹماٹر کی جگہ دہی کا استعمال ایک بہترین انتخاب ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سلاد اور چٹنیوں میں کھٹاس لانے کے لیے املی کا پانی یا لیموں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر کھانے میں ٹماٹر کا ذائقہ ہی ضروری ہو تو مارکیٹ میں دستیاب ٹماٹو پیسٹ یا پہلے سے فریز کیا ہوا ٹماٹر کا گودا استعمال کریں، جو تازہ ٹماٹر کے مقابلے میں نسبتاً سستا پڑتا ہے۔ اسی طرح سالن کی گریوی کو گاڑھا اور ذائقے دار بنانے کے لیے براؤن پیاز کا پیسٹ بہترین کام کرتا ہے۔

حکومتی سطح پر فوری ضروری اقدامات
اس سنگین صورتحال سے نمٹنے اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت کو فوراً ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے:
حکومتی سطح پر سب سے پہلے ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔ جب تک مقامی فصل مارکیٹ میں مکمل طور پر نہیں آ جاتی، تب تک پڑوسی ممالک سے ٹماٹر کی فوری اور سستی در آمد کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ کسانوں کو سستے بیج اور کھاد کی فراہمی ممکن بنائی جائے تاکہ وہ اگلی فصل جلد از جلد تیار کر سکیں۔

حاصل کلام
ٹماٹر کا 500 روپے کلو تک پہنچ جانا محض ایک سبزی کا مہنگا ہونا نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے زرعی، معاشی اور انتظامی نظام کی سنگین کمزوریوں کا آئینہ دار ہے۔ امید ہے کہ متعلقہ انتظامیہ جلد بیدار ہوگی اور نئی فصل کے آتے ہی عوام کو اس شدید مہنگائی سے راحت ملے گی۔ تب تک اپنے کچن میں ٹماٹر کا استعمال محدود رکھیں اور دانشمندی سے متبادل اشیاء کا انتخاب کریں۔

