مودی میڈیا، جیوڈیشری کا بحران اور جن زی (Gen Z) کا احتجاج: ہندوستانی سیاست کا نیا موڑ


آج ہندوستان میں ایک غیر معمولی سیاسی اور سماجی ہلچل دیکھنے کو مل رہی ہے۔ نئی دہلی کے تاریخی مقام جنتر منتر پر نوجوانوں، بالخصوص جن زی (Gen Z) کا ایک عظیم الشان احتجاج جاری ہے۔ یہ احتجاج محض ایک روایتی مظاہرہ نہیں ہے، بلکہ یہ ملک کے موجودہ سماجی اور صحافتی ڈھانچے پر گہرے سوالات اٹھا رہا ہے۔

۱. جیوڈیشری (CJP) کا تنازع اور طلبا کی خودکشی
اس پورے احتجاج کی بنیاد وہ سنگین مسائل ہیں جن پر مین اسٹریم میڈیا کی خاموشی طاری ہے۔ 20 کے قریب طلبا کی خودکشی اور پیپر لیکس جیسے واقعات نے نوجوان نسل کے مستقبل کو تاریک بنا دیا ہے۔

عوامی غصہ: 14 سے 16 سال کے وہ نوجوان جن کا کسی سیاسی جماعت (کانگریس یا عام آدمی پارٹی) سے تعلق نہیں ہے، اب اپنے ساتھیوں کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پولیس کا سخت رویہ: مظاہرین پر پیلٹ گنز اور لاٹھی چارج کے استعمال نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔

۲. ‘گودی میڈیا’ اور ارنب گوسوامی کا موقف
اس تمام تر صورتحال میں ہندوستانی مین اسٹریم میڈیا، جسے عوامی حلقوں میں ‘گودی میڈیا’ کا نام دیا جا رہا ہے، شدید عوامی تنقید کی زد میں ہے۔

ارنب گوسوامی کی وائرل کلپ: ایک ٹی وی شو کے دوران اپوزیشن ترجمان کے سوالات پر ارنب گوسوامی کا یہ کہنا کہ “میں وہاں کیوں جاؤں؟” ان کی صحافتی ذمے داریوں پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔

2011 بمقابلہ موجودہ دور: جب 2011 میں اننا ہزارے کی تحریک چلی تھی، تو یہی میڈیا دن رات کوریج کر رہا تھا، لیکن آج طلبا کے اہم مسائل سے نظریں چرائی جا رہی ہیں۔

وزارتِ خارجہ (MEA) کا ردِعمل:

جہاں میڈیا اینکرز کی جانب سے مظاہرین پر “غیر ملکی فنڈنگ” یا “پاکستانی/چینی سازش” کے الزامات لگائے گئے، وہیں وزارتی ترجمان رندھیر جیسوال نے صاف لفظوں میں وضاحت کی کہ ان کے پاس ایسے کسی بھی غیر ملکی فنڈنگ کے ثبوت موجود نہیں ہیں۔

۳. جن زی (Gen Z)، انسٹاگرام اور سوشل میڈیا کی طاقت
روایتی ٹی وی میڈیا سے مایوس ہو کر آج کا نوجوان سوشل میڈیا، بالخصوص انسٹاگرام کا سہارا لے رہا ہے۔

انسٹاگرام انقلاب: نوجوان اب ٹی وی کی خبروں کے بجائے انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔

عوامی ردِعمل: سوشل میڈیا پر آنے والے تبصرے اور عوامی ردِعمل اس بات کا ثبوت ہیں کہ نوجوان نسل اب پرانے بیانیے اور مذہبی منافرت کی سیاست کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

حاصلِ کلام
ہندوستان میں جاری یہ حالیہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جب صحافت اپنے بنیادی فرائض سے ہٹ کر حکومت کی وکالت کرنے لگے، تو عوام اور نوجوان نسل اپنے راستے خود تراشتی ہے۔ جنتر منتر پر اٹھنے والی یہ آواز صرف ایک احتجاج نہیں، بلکہ آزاد صحافت اور شفاف نظام کی بحالی کا ایک مطالبہ ہے۔

(اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہو تو نیچے کمنٹ میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور مزید خبروں کے لیے ہمارے بلاگ کو سبسکرائب کریں!)

اپنا تبصرہ لکھیں