آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور وزارتِ پیٹرولیم نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے یومیہ قیمتوں کے نفاذ کے تحت 28 جولائی کے لیے نئے نرخوں کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ جاری کردہ تازہ ترین نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 3 روپے 37 پیسے کا مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد ڈیزل کی نئی فی لیٹر قیمت 383 روپے 46 پیسے سے بڑھ کر 386 روپے 83 پیسے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ دوسری جانب پیٹرول کے صارفین کو محض 1 روپے فی لیٹر کی معمولی ریلیف فراہم کی گئی ہے۔
وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 1 روپے کی کمی کے بعد اس کی نئی سطح 335 روپے 18 پیسے سے کم ہو کر 334 روپے 18 پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے۔ اوگرا حکام نے واضح کیا ہے کہ نئی مقرر کردہ قیمتوں کا باقاعدہ اطلاق 27 جولائی کی رات 12 بجے سے ہو جائے گا جو اگلے 24 گھنٹوں کے لیے نافذ العمل رہے گا۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ اور یومیہ بنیادوں پر قیمتوں کے نئے میکانزم کے تحت ہر روز کی بنیاد پر نئی ایکس ڈپو قیمتیں طے کی جا رہی ہیں تاکہ بین الاقوامی قیمتوں کا اثر فوری طور پر منتقل کیا جا سکے۔
ڈیزل کے نرخوں میں مسلسل اضافے سے ٹرانسپورٹیشن، مال برداری اور زرعی شعبے کے اخراجات میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ مال بردار گاڑیوں اور بسوں کی اکثریت ہائی اسپیڈ ڈیزل پر ہی انحصار کرتی ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ پیٹرول میں 1 روپے کی معمولی کمی سے عوام کو کوئی خاص ریلیف نہیں مل سکے گا، جبکہ ڈیزل کی قیمت 386 روپے سے تجاوز کر جانے کے سبب اشیائے خوردونوش اور بنیادی ضرورت کے سامان کی ترسیلی لاگت میں اضافہ ہوگا جس کا براہِ راست بوجھ عام صارف کی جیب پر پڑے گا۔
