پاکستان شوبز انڈسٹری کے سینئر اداکار، مصنف اور ڈرامہ نگار سید محمد احمد نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں ایسا انکشاف کیا جس نے مداحوں اور شوبز حلقوں کو حیران کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران ایک نوجوان مرکزی اداکار نے ان کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جو نہایت توہین آمیز اور تکلیف دہ تھا۔
سید محمد احمد کے مطابق اس واقعے نے انہیں ذہنی طور پر شدید متاثر کیا اور ان کے لیے اس ڈرامے کی شوٹنگ مکمل کرنا بھی انتہائی مشکل ہو گیا۔ تاہم انہوں نے انٹرویو میں اس اداکار کا نام ظاہر نہیں کیا۔
شمعون عباسی سمیت کئی فنکاروں کی حمایت
سید محمد احمد کے انکشاف کے بعد شوبز انڈسٹری کے متعدد فنکار ان کی حمایت میں سامنے آئے۔ اداکار شمعون عباسی نے بھی ان کے حق میں آواز بلند کی اور مطالبہ کیا کہ اگر واقعی کسی سینئر اداکار کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا ہے تو ذمہ دار شخص کو معافی مانگنی چاہیے۔

بعد ازاں سید محمد احمد نے سوشل میڈیا پر بھی اشارہ دیا کہ وہ اس نوجوان اداکار کو اچھی طرح جانتے ہیں اور انہیں امید تھی کہ وہ کم از کم نجی طور پر معذرت کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر معافی نہ آئی تو نام سامنے لایا جا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والا دعویٰ
اس دوران FHM Pakistan کی جانب سے ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ سید محمد احمد کے الزامات میں جس نوجوان اداکار کا ذکر کیا جا رہا تھا، وہ فہد شیخ ہیں۔ ویڈیو میں یہ بھی کہا گیا کہ دونوں فنکار 2020 سے 2022 کے درمیان دو ڈراموں میں ایک ساتھ کام کر چکے ہیں۔
تاہم یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ دعویٰ FHM Pakistan کی ویڈیو میں کیا گیا ہے، جبکہ سید محمد احمد نے خود عوامی طور پر اس اداکار کا نام نہیں لیا۔ اسی طرح، اس خبر کی اشاعت تک فہد شیخ کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ عوامی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِعمل
ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے اس معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ کچھ افراد نے سینئر فنکاروں کے احترام پر زور دیا، جبکہ بعض صارفین نے مطالبہ کیا کہ کسی بھی شخص کو مکمل حقائق اور دونوں فریقوں کا مؤقف سامنے آنے سے پہلے قصوروار قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔
یہ واقعہ شوبز انڈسٹری میں سینئر اور جونیئر فنکاروں کے درمیان باہمی احترام، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور کام کے ماحول سے متعلق ایک اہم بحث کو جنم دے رہا ہے۔ فی الحال اس معاملے میں مختلف دعوے سامنے آئے ہیں، تاہم مکمل تصویر اس وقت ہی واضح ہوگی جب تمام متعلقہ فریق اپنا مؤقف پیش کریں گے۔
