بھارتی ٹی وی انڈسٹری کی معروف اداکارہ شیوانگی جوشی نے پہلی بار اپنے بچپن میں پیش آنے والے ایک انتہائی تکلیف دہ واقعے پر کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے ریئلٹی شو “لاک اپ 2” میں اپنی زندگی کے اس مشکل مرحلے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ایک قابلِ اعتماد شخص نے ان کے اعتماد کا غلط فائدہ اٹھایا، جس کے اثرات ان کی زندگی پر کئی برسوں تک قائم رہے۔
بچپن کی تلخ یادیں پہلی بار عوام کے سامنے
شو کے دوران شیوانگی جوشی نے بتایا کہ بچپن میں ان کے خاندان کے ایک ایسے شخص نے، جس پر ان کے والدین مکمل اعتماد کرتے تھے، ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا۔ اداکارہ کے مطابق وہ شخص ان کی والدہ کا قریبی جاننے والا تھا اور وہ اسے احترام سے “ماماجی” کہہ کر مخاطب کرتی تھیں۔
شیوانگی نے بتایا کہ وہ بچپن سے اداکاری کا شوق رکھتی تھیں اور مستقبل میں ممبئی جا کر فلم اور ٹی وی انڈسٹری میں اپنا مقام بنانا چاہتی تھیں۔ اسی خواہش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مذکورہ شخص نے ان کے ساتھ غیر مناسب برتاؤ شروع کیا۔
اداکاری سکھانے کے بہانے نامناسب رویہ
اداکارہ کے مطابق ابتدا میں وہ اس شخص کے رویے کو سمجھ نہیں سکیں کیونکہ وہ انہیں اداکاری کے لیے تیاری کرنے، گاڑی چلانا سیکھنے اور مختلف سرگرمیوں کے بہانے قریب آنے کی کوشش کرتا تھا۔
شیوانگی نے بتایا کہ بعد میں اس شخص نے فلموں میں مختلف قسم کے مناظر اور کرداروں کے بارے میں گفتگو شروع کی اور ایسا رویہ اختیار کیا جس سے وہ خود کو غیر محفوظ اور بے آرام محسوس کرنے لگیں۔ جب انہوں نے اس رویے پر اعتراض کیا تو صورتحال مزید سنگین ہوگئی۔
والدین کی بروقت آمد نے بڑی آزمائش سے بچایا
اداکارہ نے بتایا کہ خوش قسمتی سے اسی دوران ان کے والدین گھر واپس آگئے۔ ان کی آواز سن کر والد فوراً کمرے میں آئے اور معاملہ سمجھنے کے بعد اس شخص کو گھر سے نکال دیا۔
شیوانگی کے مطابق اس واقعے کے بعد ان کے والدین انہیں کبھی اکیلا چھوڑنے سے گھبراتے تھے، جبکہ وہ خود بھی ایک طویل عرصے تک گھر سے باہر نکلنے، اسکول جانے اور لوگوں پر اعتماد کرنے سے خوفزدہ رہیں۔
View this post on Instagram
برسوں بعد خاموشی توڑنے کی وجہ
شیوانگی جوشی نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے اس دردناک واقعے کے بارے میں اس سے پہلے کبھی اتنی تفصیل سے بات نہیں کی تھی۔
انہوں نے شو کے میزبان اور ساتھی شرکا، خصوصاً رام کپور، ہرشاد چوپڑا اور “لاک اپ 2” کے دیگر شرکا کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں اپنی کہانی بیان کرنے کا حوصلہ دیا۔
والدہ کا والدین کے نام اہم پیغام
شیوانگی جوشی کی والدہ نے بھی بیٹی کی گفتگو پر ردعمل دیتے ہوئے تمام والدین کو ایک اہم پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو کم عمری سے ہی “گڈ ٹچ” اور “بیڈ ٹچ” کے بارے میں آگاہ کرنا بے حد ضروری ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ والدین اپنے بچوں کے لیے ایسا محفوظ ماحول پیدا کریں جہاں وہ کسی بھی خوف، پریشانی یا ناخوشگوار تجربے کے بارے میں بلا جھجھک بات کر سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی بچہ کسی تکلیف دہ واقعے کا ذکر کرے تو والدین کو چاہیے کہ وہ اس کی بات کو سنجیدگی سے سنیں، اس پر یقین کریں اور فوری طور پر مناسب قدم اٹھائیں۔
معاشرے کے لیے ایک اہم سبق
شیوانگی جوشی کی یہ کہانی صرف ایک مشہور شخصیت کی ذاتی زندگی کا واقعہ نہیں بلکہ معاشرے کے لیے ایک اہم یاد دہانی بھی ہے۔ بچوں کی حفاظت، ان کی بات پر یقین کرنا اور انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنا ہر والدین اور سرپرست کی ذمہ داری ہے۔
ماہرین بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بچوں کو ذاتی حدود (Personal Boundaries)، محفوظ اور غیر محفوظ رویوں کے بارے میں عمر کے مطابق آگاہی دینا، ان کی بات توجہ سے سننا اور کسی بھی شکایت کو نظرانداز نہ کرنا ان کی حفاظت کے لیے انتہائی ضروری اقدامات ہیں۔
شیوانگی جوشی کی جانب سے برسوں بعد خاموشی توڑنا نہ صرف ان کی ہمت کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ایسے متاثرہ افراد کے لیے بھی ایک مضبوط پیغام ہے کہ وہ مناسب اور محفوظ ماحول میں اپنی بات کہنے سے نہ گھبرائیں۔
