انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) اسلام آباد نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی بہنوں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کو کوہسار تھانے میں درج 4 اکتوبر کے احتجاجی کیس میں باضابطہ طور پر اشتہاری قرار دے دیا ہے۔ کیس کی سماعت انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کی، جس کے دوران اسلام آباد پولیس نے ملزمان کے خلاف ضابطہ اخلاق کے تحت اشتہاری کی کارروائی مکمل کر کے اپنی حتمی تعمیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ عدالت نے پولیس رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی دونوں بہنوں کو اشاری قرار دیتے ہوئے ان کے دائمی وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
عدالتی کارروائی کے دوران جج طاہر عباس سپرا نے علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادوں کی مکمل تفصیلات بھی متعلقہ حکام سے طلب کر لی ہیں تاکہ قانون کے مطابق آئندہ کی ضبطگی کی کارروائی پر عمل درآمد کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں 4 اکتوبر کے احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ، کارِ سرکار میں مداخلت اور نقصِ امن سے متعلق انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ متعدّد بار طلبی کے نوٹسز اور اشتہارات کی تعمیل کے باوجود عدالت کے سامنے پیش نہ ہونے پر یہ سخت قانونی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق دائمی وارنٹِ گرفتاری جاری ہونے اور اشتہاری قرار دیے جانے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملزمان کو ملک کے کسی بھی حصے سے بغیر وارنٹ فوری گرفتار کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہو گیا ہے۔ اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جا رہی ہیں اور ان کی جائیدادوں کی تفصیلات سامنے آتے ہی انہیں بحقِ سرکار ضبط کرنے کی قانونی دستاویزات بھی عدالت میں پیش کر دی جائیں گی۔ اس نئے عدالتی فیصلے سے ملک کے سیاسی منظر نامے اور پی ٹی آئی کے قانونی چیلنجز میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
