An electricity utility bill document placed on table showing tax Breakdown in Pakistan

بجلی بلوں پر ٹیکس کی مد میں عوام سے 476 ارب روپے وصولی کا انکشاف: ایف بی آر کی رپورٹ جاری

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ملک بھر کے بجلی صارفین سے مختلف ٹیکسوں کی مد میں 476 ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم اکٹھی کی گئی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں پیش کی جانے والی ایک تفصیلی دستاویزات کے مطابق بجلی کے بلوں سے اکٹھی کی گئی اس کل رقم میں 351 ارب روپے صرف سیلز ٹیکس جبکہ 124 ارب روپے سے زائد کی رقم انکم ٹیکس (ودہولڈنگ ٹیکس) پر مشتمل ہے۔ دستاویزات کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ یہ رقم بہت بڑی ہے، لیکن گزشتہ برسوں کے مقابلے میں وصولیوں میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے؛ کیونکہ مالی سال 25-2024 میں 562 ارب، 24-2023 میں 515 ارب جبکہ 23-2022 میں 313 ارب روپے بجلی ٹیکسز سے وصول کیے گئے تھے۔

ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق انکم ٹیکس یا ودہولڈنگ ٹیکس کی صورت میں صنعتی شعبے نے سب سے بڑا بوجھ اٹھایا جس سے 66 ارب روپے وصول کیے گئے۔ اس کے بعد کمرشل صارفین سے 52 ارب روپے، جبکہ انکم ٹیکس نان فائلر گھریلو صارفین سے 4 ارب 82 کروڑ روپے وصول کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ انکم ٹیکس قانون کے سیکشن 235 اے کے تحت دیگر عام گھریلو صارفین سے بھی 1 ارب 37 کروڑ روپے کا انکم ٹیکس بجلی بلوں کے ذریعے ہی وصول کیا گیا ہے۔ یہ ارقام ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت کے ریونیو اکٹھا کرنے کے نظام میں بجلی کے بل اب بھی پرائمری ذریعے کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب، 351 ارب روپے کے بڑے سیلز ٹیکس کا بریک ڈاؤن پیش کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس میں سے 269 ارب روپے نارمل سیلز ٹیکس کی صورت میں وصول کیے گئے، جبکہ 55 ارب روپے اضافی سیلز ٹیکس (Further Sales Tax) کے تحت اکٹھے کیے گئے۔ بجلی کے بلوں پر قائم ریٹیلرز سے حاصل کردہ سیلز ٹیکس کا حجم 16.5 ارب روپے رہا۔ معاشی ماہرین اور قائمہ کمیٹی کے اراکین نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان بھاری ٹیکسوں کے مسلسل نفاذ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے صارفین کے لیے مزید مہنگائی اور مالی مشکلات کا باعث قرار دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں