سندھ کا ہیلتھ کیئر بحران: جب حکمتِ عملی تلخ حقائق سے ہار گئی

سندھ میں ایچ آئی وی اب محض ایک طبی مسئلہ نہیں رہا، یہ صوبے کے صحتِ عامہ کے نظام کے لیے ایک انتہائی سنگین امتحان بن چکا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ سندھ میں ایچ آئی وی کے کیسز کیوں سامنے آ رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ ایک ایسے صوبے میں جہاں برسوں پہلے ایک بڑے بچوں کے ایچ آئی وی بحران نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا، وہاں آج بھی طبی حفاظتی اصولوں، انفیکشن کنٹرول اور نگرانی کے نظام میں ایسی خامیاں کیوں موجود ہیں کہ معصوم بچے علاج کے لیے سرکاری اسپتال جائیں اور بیماری لے کر واپس آئیں؟ 2019 میں لاڑکانہ کے علاقے رتودیرو میں سامنے آنے والا بحران کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اپریل سے جون 2019 کے دوران لاڑکانہ ضلع میں 30 ہزار سے زیادہ افراد کی ایچ آئی وی اسکریننگ کی گئی، جن میں 876 افراد مثبت پائے گئے اور ان میں 719 یعنی 82 فیصد بچے تھے۔ عالمی ادارۂ صحت کی تحقیقات نے غیر محفوظ طبی طریقوں، غیر محفوظ انجیکشنز اور صحت مراکز میں انفیکشن کنٹرول کی سنگین خامیوں کو اس وبا کی ممکنہ بنیادی وجوہ میں شمار کیا۔ اس سانحے کے بعد سوال اٹھا تھا کہ کیا سندھ کا نظام صحت اس بحران سے سبق سیکھے گا؟ کیا اسپتالوں میں انجیکشن، سرنج، خون، طبی فضلے اور انفیکشن کنٹرول کے اصولوں کی سخت نگرانی ہوگی؟ کیا غیر محفوظ طبی طریقوں کے خلاف مستقل کارروائی ہوگی؟ آج، سات برس بعد، انہی سوالات کا جواب کراچی کے کلثوم بائی والیکا اسپتال کے واقعے میں تلاش کیا جا رہا ہے۔ والیکا اسپتال میں ابتدا میں 78 بچوں کے ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کی تصدیق کی گئی۔ بعد ازاں مزید بچوں کے مثبت آنے کی اطلاعات سامنے آئیں اور 22 جولائی تک سندھ محتسب کو دی گئی رپورٹ میں تعداد 94 بتائی گئی۔ اس سے بھی آگے، 14 جولائی کو سندھ کے وزیرِ محنت سعید غنی نے بتایا کہ اسپتال اور گرد و نواح میں 10,500 سے زائد افراد کی اسکریننگ کے دوران 120 افراد ایچ آئی وی مثبت پائے گئے۔ حکومت کے مطابق متاثرہ بچوں کا علاج ملک کے پانچ بڑے اسپتالوں میں جاری ہے۔ لیکن اصل سوال پھر بھی وہی ہے: *یہ بچے اسپتال گئے کیوں تھے؟ علاج کے لیے، یا ایک اور بیماری کے ساتھ واپس آنے کے لیے؟* یہ سوال جذباتی ضرور ہے، مگر اس کا تعلق براہِ راست ریاستی ذمہ داری سے ہے۔ سندھ حکومت نے والیکا معاملے پر کارروائی کا اعلان کیا، دو ڈاکٹروں کو معطل کیا، ایک ڈسپنسر کو عہدے سے ہٹایا اور 37 ملازمین کو اظہارِ وجوہ کے نوٹس جاری کیے۔ بعد ازاں سندھ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن نے متاثرہ بچوں کے علاج اور فلاح کے لیے دو ارب روپے کے اوقاف فنڈ کا اعلان بھی کیا۔ یہ اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ *احتیاط کہاں تھی؟* کارروائی بیماری پھیلنے کے بعد کیوں؟ نگرانی بحران کے بعد کیوں؟ حفاظتی اصول اس وقت کیوں یاد آتے ہیں جب متاثرہ بچوں کی تعداد خبروں کی سرخی بن چکی ہو؟ سندھ حکومت کے اپنے صحت کے نظام میں ایچ آئی وی اور ایڈز کنٹرول پروگرام موجود ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ 2019 کے بحران کے بعد سندھ محکمہ صحت نے انفیکشن کنٹرول پروگرام، محفوظ انجیکشن کے طریقۂ کار اور اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول ٹیموں کے قیام جیسے اقدامات کیے تھے۔ تو پھر والیکا ہسپتال تک یہ خامیاں کیسے پہنچیں؟ 18 جولائی کو سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات نے اس سوال کو مزید سنگین بنا دیا۔ کمیشن کے مطابق اسپتال میں استعمال شدہ سرنجوں سے سوئیاں دستی طور پر الگ کی جا رہی تھیں اور انہیں مخصوص تیز دھار طبی فضلے کے ڈبوں میں موجود نہیں پایا گیا۔ عملہ یہ بھی واضح نہیں کر سکا کہ نکالی گئی سوئیوں کو آخر کہاں اور کس طریقے سے تلف کیا جاتا تھا۔ یہ صرف انتظامی غفلت کا سوال نہیں۔ یہ *مریض کی جان کے تحفظ* کا سوال ہے۔ پیپلز پارٹی کی طویل صوبائی حکمرانی میں سندھ حکومت کو اس حقیقت سے فرار کی گنجائش نہیں کہ صحت عامہ کی نگرانی، سرکاری اسپتالوں کے معیار، انفیکشن کنٹرول اور جواب دہی صوبائی حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ سیاسی اعلانات، پریس کانفرنسیں، معطلیاں اور فنڈز کے اعلانات اس وقت تک کافی نہیں جب تک یہ واضح نہ ہو کہ حفاظتی نظام بار بار کیوں ناکام ہو رہا ہے اور ذمہ داری آخر کس سطح پر طے ہوگی۔ سندھ کے بچوں کو کسی سیاسی جماعت کے منشور، حکومت کی تشہیری مہم یا انتظامی بیان بازی سے زیادہ محفوظ اسپتال درکار ہیں۔ ایک بچے کا اسپتال میں داخل ہونا بیماری کے خطرے میں داخل ہونا نہیں ہونا چاہیے۔ 2019 کا رتودیرو ہمیں خبردار کر چکا تھا۔ 2026 کا والیکا بحران اسی انتباہ کو دوبارہ سامنے لا رہا ہے۔ اگر ایک دہائی کے قریب عرصے میں بار بار ایسے واقعات سامنے آتے رہیں، تو اسے محض چند افراد کی غلطی کہہ کر معاملہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نظام کی جواب دہی کا سوال ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں