An informative global oil market graphic displaying a crude oil barrel and upward price chart indicator

عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بوال: برینٹ کروڈ 90 ڈالر سے تجاوز کر گیا

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی شدید فوجی کشیدگی اور بحری راستوں پر برپا ہونے والے بحران کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کے بین الاقوامی بینچ مارک ’برینٹ کروڈ‘ (Brent Crude) کی فی بیرل قیمت میں 1.104 ڈالر یعنی تقریباً 1.3 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس تازہ ترین اضافے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کے نرخ بڑھ کر 90.17 ڈالر فی بیرل کی نئی اونچی سطح پر پہنچ گئے ہیں، جس سے توانائی کے عالمی بحران میں شدید اضافے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اس ناگہانی بوال کی بنیادی وجہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اہم ترین تجارتی بحری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ (Strait of Hormuz) میں توانائی کی نقل و حمل کو روکنا قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو بڑے آئل ٹینکرز کو تحویل میں لے کر روک دیا ہے، جبکہ ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر 4 دیگر تجارتی جہازوں نے اپنا روٹ تبدیل کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ کویت میں قائم ایئربیس پر کیے گئے حملوں کے دوران امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

آبنائے ہرمز جیسے حساس ترین سمندری راستے پر پیدا ہونے والی اس غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی انرجی سپلائی چین شدید متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں یہ جغرافیائی و سیاسی تنازع مزید طویل ہوتا ہے تو خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کا ہندسہ عبور کر سکتی ہیں۔ اس عالمی قیمتوں کے طوفان کا براہِ راست اثر پاکستان اور دیگر در آمدی ممالک پر بھی پڑے گا، جہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید بڑھنے سے عوام کے لیے معاشی مشکلات اور مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں