
بھارت میں جب بھی کوئی نیا تنازع جنم لیتا ہے تو سڑکوں سے پہلے سوشل میڈیا جاگ اٹھتا ہے۔ اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہوا، جہاں Gen Z نے احتجاج کو ایک نئے انداز میں پیش کیا۔ بینر کم اور موبائل فون زیادہ نظر آئے، نعرے کم اور ہیش ٹیگ زیادہ سنائی دیے۔ یوں محسوس ہوا جیسے انقلاب اب چارجر کی بیٹری پر چلنے لگا ہو۔
ماضی میں احتجاج کرنے والے دھوپ، گرمی اور مشکلات برداشت کرتے تھے، مگر آج کے نوجوانوں کی سب سے بڑی آزمائش یہ ہے کہ کہیں وائی فائی بند نہ ہو جائے۔ اگر انٹرنیٹ چل رہا ہو تو ہر نوجوان خود کو انقلاب کا کمانڈر سمجھتا ہے، لیکن جیسے ہی موبائل کی بیٹری پانچ فیصد پر آ جائے، جذبہ بھی لو پاور موڈ میں چلا جاتا ہے۔

بھارت کی Gen Z نے ثابت کر دیا کہ اب احتجاج صرف سڑکوں پر نہیں بلکہ “ریلز”، “میمز” اور “اسٹوریز” میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ کسی نے احتجاجی سیلفی پوسٹ کی، کسی نے جذباتی کیپشن لکھا، اور کسی نے صرف اس لیے شرکت کی تاکہ نئی پروفائل تصویر مل سکے۔ یوں محسوس ہونے لگا کہ کچھ لوگ تبدیلی سے زیادہ لائکس کے خواہش مند ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر دوسرا نوجوان خود کو تجزیہ کار، ہر تیسرا صحافی اور ہر چوتھا انقلاب کا رہنما سمجھنے لگا۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو دیکھ کر ایسے فیصلے سنائے جاتے ہیں جیسے برسوں سے حالات کا گہرا مطالعہ کیا ہو۔

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ نوجوانوں کی آواز اہم نہیں۔ نوجوان کسی بھی معاشرے کی طاقت ہوتے ہیں اور ان کا پرامن احتجاج جمہوری اقدار کا حصہ ہے۔ تاہم، اگر احتجاج صرف ٹرینڈنگ ہیش ٹیگ تک محدود رہ جائے اور عملی شعور، تحقیق اور ذمہ داری پیچھے رہ جائیں تو اس کا اثر بھی چند دنوں کا مہمان ثابت ہوتا ہے۔شاید آج کے دور کا سب سے بڑا طنز یہی ہے کہ کچھ لوگ انقلاب سے پہلے کیمرہ آن کرتے ہیں اور اختتام پر پوچھتے ہیں، “ویڈیو کیسی لگی؟”
اگر Gen Z اپنی توانائی، تخلیقی صلاحیت اور ڈیجیٹل مہارت کو سنجیدہ مکالمے، تحقیق اور مثبت سماجی تبدیلی کے لیے استعمال کرے تو یقیناً وہ معاشرے میں دیرپا اور تعمیری کردار ادا کر سکتی ہے۔ آخرکار، اصل انقلاب وہی ہوتا ہے جو صرف ٹرینڈ نہ بنے بلکہ سوچ اور کردار میں بھی تبدیلی لے آئے۔
