
راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے پریس کانفرنس کے دوران قوم کے سامنے آئینہ رکھتے ہوئے ایک بنیادی سوال اٹھایا: کیا پچیس کروڑ پاکستانیوں کے لیے محض چار صوبے موزوں ہیں؟ انہوں نے ایک ایسی بحث کا آغاز کیا جس نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔ ان کے بقول، اچھی حکمرانی (Good Governance) کے بغیر نہ سلامتی کے مسائل حل ہوں گے، نہ اقتصادی چیلنجز پر قابو پایا جا سکے گا اور نہ ہی کوئی دیگر مسئلہ اپنے انجام کو پہنچے گا۔
یہ محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک تنبیہ ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح الفاظ میں کہا کہ جب تک ہم اپنے فرائض (Obligations) کو نظرانداز کرتے رہیں گے اور صرف حقوق کا نعرہ بلند کرتے رہیں گے، کوئی بہتری ممکن نہیں۔ انہوں نے آئین کی دفعہ 5 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: “ریاست سے وفاداری اور آئین و قانون کی اطاعت ہر شہری کا بنیادی فریضہ ہے۔” اس کے بعد انہوں نے وہ سوال داغا جس نے سب کو سوچنے پر مجبور کر دیا: “جب ہر شخص حقوق کی جدوجہد کی بات کرتا ہے تو فرائض کی تحریک کیوں نہیں چلائی جاتی؟”
ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے آگاہ کیا کہ اس آگ پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی فورسز نے رواں سال اب تک 40,348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز مکمل کیے ہیں۔ یہ اعداد و شمار خود گواہی دیتے ہیں کہ ہر گھنٹے اوسطاً آٹھ کارروائیاں انجام پا رہی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ، یعنی اکتیس ہزار سے زائد آپریشنز صوبہ بلوچستان میں کیے گئے۔
یہ اعداد و شمار پریشان کن ضرور ہیں، مگر عزم اس سے کہیں بلند ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں برس اب تک 2,084 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، یعنی روزانہ اوسطاً دس دہشت گرد واصلِ جہنم ہوئے، جو تاریخ کا بلند ترین تناسب ہے۔ تاہم اس کامیابی کے ساتھ ایک المیہ بھی جڑا ہے۔ جن میں 303 پاک فوج کے بہادر جوان، 194 پولیس اور سول فورسز کے اہلکار، اور 322 معصوم پاکستانی شہری دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ یعنی روزانہ چار جانیں لقمۂ اجل بن رہی ہیں۔ یہ وہ قیمت ہے جو قوم اپنی بقا کی خاطر چکا رہی ہے۔
یہ خونی کھیل آخر کون رچا رہا ہے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے براہِ راست الزام عائد کیا کہ رواں سال ہونے والے 28 خودکش حملوں میں اکثریت افغان شہریوں کی جانب سے کی گئی۔ انہوں نے افغان طالبان حکومت کو “دہشت گردوں کی پشت پناہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا کاروبار ہی دہشت گردی بن چکا ہے، جس کے ذریعے وہ اپنی معیشت اور خارجہ تعلقات کو چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ جنگ محض پاکستان کی نہیں بلکہ عالمی توجہ کا محور بن چکی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک نیا زاویہ بھی سامنے رکھا: بیرونی قوتیں، خصوصاً بھارت اور افغانستان، دہشت گردوں کی معاونت میں باہمی ہم آہنگی رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق “فتنہ الخوارج” اور “فتنہ الہند” بظاہر الگ نظریات رکھتے ہیں ایک مذہبی انتہاپسندی پر مبنی ہے جبکہ دوسرا سیکولر رجحان رکھتا ہے — مگر اب دونوں مشترکہ طور پر پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں۔
بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا موقف غیر مبہم تھا۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ “اشرافیائی و سرداری نظام” ہے جو 1947 سے پہلے کا وراثتی ڈھانچہ ہے۔ ان طبقات کو خدشہ ہے کہ حالات تبدیل ہو رہے ہیں، اسی لیے وہ عدم استحکام کو ہوا دیتے ہیں۔ ان کے بقول یہ عناصر اسمگلنگ کو ذریعہ معاش بنا چکے ہیں، اور جب اس پر روک لگائی جاتی ہے تو دہشت گردی کا راستہ اپناتے ہیں۔
تاہم پیغام واضح ہے: “نہ مصالحت ہوگی، نہ مذاکرات۔” ریاست کا فیصلہ حتمی ہے کہ یا تو آئین و قانون کے سامنے سرِتسلیم خم کیا جائے، ورنہ مزاحمت جاری رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن علاقوں میں ترقی کے مواقع روکے جا رہے ہیں، وہاں محرومی کا بیانیہ گھڑا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کا فی کس بجٹ دیگر صوبوں کی نسبت زائد ہے۔
یہ پریس کانفرنس محض ایک بریفنگ نہیں بلکہ ایک لائحہ عمل تھی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک ایسے پاکستان کا خاکہ پیش کیا جہاں شناخت سب سے پہلے اور آخر تک “پاکستانی” ہو، جہاں قانون سب کے لیے یکساں طور پر لاگو ہو، اور جہاں انتظامی ڈھانچے کو عوامی امنگوں کے مطابق ازسرِنو تشکیل دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کے لیے اچھی حکمرانی ناگزیر ہے، اور سیاسی قیادت کو اس موضوع پر سنجیدہ مکالمہ کرنا چاہیے۔
یقیناً، آج کا پیغام ایک تنبیہ بھی ہے، ایک سوال بھی، اور ساتھ ہی یہ عزم بھی کہ پاکستان کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ناکامی سے دوچار ہوگی۔
