پاکستان کو وجود میں آئے تقریباً آٹھ دہائیاں گزر چکی ہیں، لیکن اس عرصے میں آبادی، معیشت، شہری ضروریات اور انتظامی تقاضوں میں غیر معمولی تبدیلی آ چکی ہے۔ اس کے باوجود ہمارا انتظامی اور حکمرانی کا ڈھانچہ بڑی حد تک انہی بنیادوں پر قائم ہے جو کئی دہائیاں پہلے تشکیل دیا گیا تھا۔ آج سوال یہ نہیں کہ ماضی میں کیا درست تھا، بلکہ یہ ہے کہ کیا موجودہ نظام اکیسویں صدی کے پاکستان کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟
ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤ، علاقائی عدم توازن، بیروزگاری، بنیادی سہولیات کی کمی اور عوام کی بڑھتی ہوئی توقعات اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان کو صرف معاشی اصلاحات ہی نہیں بلکہ انتظامی اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔ ایک ایسی ریاست جو عوام کے قریب ہو، جلد فیصلے کر سکے، وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے اور ہر شہری کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرے۔
دنیا کے کامیاب ممالک کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ مؤثر حکمرانی کا تعلق صرف مالی وسائل سے نہیں بلکہ مضبوط اور متوازن انتظامی ڈھانچے سے بھی ہوتا ہے۔ جب انتظامی اکائیاں بہت بڑی ہو جائیں تو حکومت کے لیے ہر علاقے کے مسائل کو یکساں توجہ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً ترقی چند بڑے شہروں تک محدود رہ جاتی ہے جبکہ دور دراز علاقے بنیادی سہولیات سے بھی محروم رہتے ہیں۔
اسی تناظر میں پاکستان میں چھوٹے صوبوں کے قیام پر سنجیدہ قومی بحث کی ضرورت ہے۔ اس تجویز کا مقصد کسی بھی صوبے کی شناخت کو کمزور کرنا یا تقسیم پیدا کرنا نہیں بلکہ ریاست کو زیادہ مؤثر، فعال اور عوام دوست بنانا ہے۔ جب بڑے انتظامی یونٹس نسبتاً چھوٹے اور قابلِ انتظام حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں تو حکومت عوام کے زیادہ قریب آتی ہے، فیصلے تیزی سے ہوتے ہیں اور انتظامی کارکردگی میں واضح بہتری آتی ہے۔
چھوٹے صوبوں کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہر انتظامی اکائی اپنی ضروریات، وسائل اور ترجیحات کے مطابق منصوبہ بندی کر سکتی ہے۔ اس کے حصے میں آنے والے مالی وسائل، ترقیاتی فنڈز اور سرکاری سرمایہ کاری اسی علاقے کی تعلیم، صحت، زراعت، صنعت، انفراسٹرکچر اور روزگار کے منصوبوں پر زیادہ مؤثر انداز میں خرچ ہوتی ہے۔ اس سے وسائل کا ارتکاز چند بڑے شہروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ ہر خطے کو اپنی صلاحیت کے مطابق ترقی کے مواقع میسر آتے ہیں۔
جب ہر صوبے کا انتظامی دائرہ نسبتاً محدود ہوگا تو حکومت کے لیے عوامی مسائل کو سمجھنا، ان کا بروقت حل نکالنا اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کرنا بھی آسان ہوگا۔ یہی مؤثر گورننس کی اصل روح ہے، جہاں ریاست عوام کے دروازے تک پہنچتی ہے، نہ کہ عوام کو اپنے حقوق کے لیے طویل انتظار کرنا پڑے۔
اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ایک مضبوط جمہوری نظام کی بنیادی شرط ہے۔ اگر وسائل، اختیارات اور انتظامی ذمہ داریاں مقامی سطح تک منتقل کی جائیں تو عوام خود کو ریاستی نظام کا حقیقی حصہ محسوس کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف عوامی اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ احتساب کا عمل بھی مضبوط ہوتا ہے، کیونکہ چھوٹے انتظامی یونٹس میں کارکردگی کا جائزہ لینا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔
پاکستان کو درپیش کئی چیلنجز، جیسے علاقائی احساسِ محرومی، غیر متوازن ترقی، سیاسی مرکزیت اور انتظامی پیچیدگیاں، اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ ملک میں انتظامی اصلاحات پر کھلے ذہن کے ساتھ غور کیا جائے۔ قومی یکجہتی کا مطلب صرف موجودہ ڈھانچے کو برقرار رکھنا نہیں بلکہ ایسا نظام تشکیل دینا بھی ہے جس میں ہر شہری اور ہر خطہ خود کو ترقی کے عمل کا برابر کا شریک محسوس کرے۔
یقیناً چھوٹے صوبوں کا قیام ایک اہم آئینی اور سیاسی معاملہ ہے، اس لیے اس پر کسی ایک جماعت یا طبقے کی رائے کافی نہیں ہو سکتی۔ ایسے بنیادی فیصلے قومی اتفاقِ رائے، پارلیمانی مشاورت اور آئینی تقاضوں کے مطابق ہی کیے جانے چاہییں۔ اگر ضرورت محسوس کی جائے تو عوامی ریفرنڈم جیسے جمہوری طریقۂ کار کے ذریعے بھی عوام کی رائے معلوم کی جا سکتی ہے تاکہ فیصلے کو وسیع عوامی تائید حاصل ہو۔
پاکستان کو آج ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو ذاتی اور جماعتی مفادات سے بلند ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دے۔ اگر ہمارا مقصد ایک مضبوط، خوشحال اور فعال پاکستان ہے تو ہمیں ان اصلاحات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا جو ریاست کو زیادہ مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنا سکیں۔ ترقی صرف بڑے منصوبوں سے نہیں آتی بلکہ ایسے انتظامی نظام سے آتی ہے جو ہر شہری تک انصاف، وسائل اور مواقع کو مساوی بنیادوں پر پہنچائے۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان کے مستقبل پر قومی سطح پر ایک سنجیدہ مکالمہ شروع کیا جائے۔ یہ بحث کسی صوبے یا علاقے کے خلاف نہیں بلکہ پورے پاکستان کے بہتر مستقبل، مؤثر حکمرانی اور متوازن ترقی کے لیے ہونی چاہیے۔ اگر ریاستی ڈھانچہ عوام کی ضروریات کے مطابق ڈھالا جائے، اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے تو پاکستان نہ صرف ایک مضبوط ریاست بلکہ ایک حقیقی فلاحی اور فعال جمہوری ملک کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
پاکستان کی ترقی کا اگلا مرحلہ صرف معاشی اصلاحات سے نہیں بلکہ مؤثر حکمرانی، اختیارات کی منصفانہ تقسیم، عوامی شمولیت اور ایسے انتظامی ڈھانچے سے وابستہ ہے جو ہر شہری کو ریاست کا برابر کا شریک بنائے۔ ایک فعال پاکستان کی بنیاد عوامی اختیار، جوابدہ حکمرانی اور متوازن انتظامی نظام ہی رکھ سکتا ہے۔
علیزہ عابد عارفین
