مہر بانو کی جعلی موت والی ریل پر سوشل میڈیا میں شدید تنقید.

پاکستانی اداکارہ مہر بانو ایک متنازع سوشل میڈیا ریل کی وجہ سے تنقید کی زد میں آ گئی ہیں۔ اداکارہ نے اپنے دوستوں کے ساتھ شمالی علاقوں کی سیر کے دوران ایک ایسی ویڈیو بنائی جس میں انہوں نے اپنی موت کا ڈرامائی منظر پیش کیا۔ ویڈیو کا انداز پاکستانی نیوز بلیٹن سے متاثر تھا، جس میں مہر بانو ایک چٹان پر بے حس و حرکت لیٹی دکھائی دیتی ہیں جبکہ ان کے دوست رپورٹرز اور اہلِ خانہ کا کردار ادا کرتے ہوئے واقعے کی کوریج کرتے نظر آتے ہیں۔

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی، تاہم جہاں کچھ صارفین نے اسے ایک مزاحیہ کوشش قرار دیا، وہیں بڑی تعداد میں لوگوں نے اسے غیر ذمہ دارانہ اور نامناسب قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی۔

کئی صارفین کا کہنا تھا کہ ویڈیو دیکھ کر ابتدا میں انہیں واقعی یہ گمان ہوا کہ مہر بانو کے ساتھ کوئی افسوسناک حادثہ پیش آ گیا ہے۔ ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا، “مجھے واقعی لگا کہ ان کا انتقال ہو گیا ہے۔” ایک اور صارف نے اس ویڈیو کو “انتہائی غیر معیاری حرکت” قرار دیا، جبکہ ایک اور تبصرہ تھا، “مجھے یہ بالکل بھی مزاحیہ نہیں لگی۔”

سوشل میڈیا پر متعدد افراد نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ ایسے حساس موضوعات پر تفریحی مواد بنانا عوام میں غیر ضروری خوف اور غلط فہمی پیدا کر سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق مشہور شخصیات کو ایسا مواد تخلیق کرتے وقت اپنی سماجی ذمہ داری کا بھی خیال رکھنا چاہیے کیونکہ ان کی پوسٹس لاکھوں افراد تک پہنچتی ہیں۔

View this post on Instagram

A post shared by Mehar Bano (@meharbano)

دوسری جانب بعض صارفین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک اسکرپٹڈ اور تفریحی ویڈیو تھی، جس کا مقصد کسی کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔ تاہم مجموعی ردعمل یہی ظاہر کرتا ہے کہ زیادہ تر ناظرین نے اس تصور کو پسند نہیں کیا اور اسے غیر حساس قرار دیا۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس بحث کو جنم دے رہا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی دوڑ میں تخلیق کاروں کو کن اخلاقی حدود کا خیال رکھنا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق حساس موضوعات، خصوصاً موت یا حادثات جیسے معاملات پر مبنی مواد بناتے وقت احتیاط ضروری ہے تاکہ ناظرین میں بے چینی یا غلط اطلاعات پھیلنے کا سبب نہ بنے۔

مہر بانو کی اس وائرل ریل پر بحث تاحال جاری ہے اور سوشل میڈیا صارفین اپنی آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ تفریح اور ذمہ داری کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں