Medical experts and journalists addressing audience at World Breastfeeding Week seminar in Karachi

عالمی ہفتۂ Breastfeeding 2026: کام کرنے والی ماؤں کے مسائل پر روشنی، بچوں کی صحت کے لیے قدرتی دودھ ناگزیر قرار

کراچی(نمائندہ خصوصی : عرشیہ عباسی )
عالمی ہفتۂ Breastfeeding 2026 کے موقع پر کراچی پریس کلب اور یونیسیف کے اشتراک سے ایک آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں کام کرنے والی ماؤں، خصوصاً صحافی خواتین، کو Breastfeeding کے دوران پیش آنے والی مشکلات، سماجی رویوں اور ادارہ جاتی تعاون کی ضرورت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

سیمینار میں شریک خواتین صحافیوں نے اپنے ذاتی تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ملازمت اور نومولود بچوں کی دیکھ بھال کے ساتھ Breastfeeding جاری رکھنا آسان نہیں، تاہم خاندان اور دفتر کا تعاون اس سفر کو کافی حد تک سہل بنا سکتا ہے۔

الیکٹرانک میڈیا کی صحافی مریم حسن نے بتایا کہ ان کی شیر خوار بیٹی لیکٹوز عدم برداشت (Lactose Intolerance) کا شکار تھی، جس کی وجہ سے فارمولا دودھ دینا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت Breastfeeding کے لیے دودھ محفوظ کرکے رکھنے کا رجحان عام نہیں تھا، اس لیے انہیں اپنی بچی کو اکثر ڈیوٹی کے دوران بھی ساتھ رکھنا پڑتا تھا۔ ان کے مطابق نیوز ٹیم نے ہر مرحلے پر انہیں مکمل تعاون فراہم کیا اور Breastfeeding کے لیے رازداری کا بھی خاص خیال رکھا۔

صحافی بینظیر راز سومرو نے کہا کہ ان کے شوہر نے بچے کی دیکھ بھال کے لیے اپنے دفتری اوقات تبدیل کیے تاکہ والدین میں سے ایک ہمیشہ بچے کے ساتھ موجود رہے۔ انہوں نے کہا کہ دفتر میں مصروف ہونے کے باوجود ان کی تمام تر توجہ اپنے بچے پر ہی رہتی تھی۔

الطبری میڈیکل کالج اینڈ اسپتال اور اسراء یونیورسٹی کی شعبۂ امراضِ نسواں کی پروفیسر ڈاکٹر سائرہ سعید نے کہا کہ Breastfeeding بچے کی صحت مند نشوونما کے لیے بہترین غذا ہے، جبکہ اس سے ماں کو بھی متعدد طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق Breastfeeding سے بریسٹ اور اوورین کینسر کے خطرات کم ہوتے ہیں، بلڈ پریشر متوازن رہتا ہے، ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے اور زچگی کے بعد ڈپریشن کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ حاملہ خواتین کو دورانِ حمل ہی Breastfeeding کی اہمیت اور فوائد سے متعلق مکمل رہنمائی فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ اپنے بچوں کو قدرتی غذا مہیا کر سکیں۔
کوہی گوٹھ ویمن اسپتال کی سینئر رجسٹرار ڈاکٹر فاریہ آرائیں نے کہا کہ معاشرے میں Breastfeeding سے متعلق کئی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بعض مائیں پیدائش کے فوراً بعد آنے والے زرد رنگ کے پہلے دودھ کو ضائع کر دیتی ہیں، حالانکہ یہی ابتدائی دودھ نومولود کے لیے سب سے زیادہ غذائیت اور قوتِ مدافعت فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق Breastfeeding بچوں کی بہتر جسمانی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور غذائی کمی کے باعث ہونے والی کم نشوونما (Stunting) سے بھی تحفظ دیتا ہے۔

قومی حفاظتی ٹیکہ جات تکنیکی مشاورتی گروپ پاکستان کے چیئرمین پروفیسر محمد خالد شفیع نے کہا کہ پاکستان میں شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض مقامات پر فارمولا دودھ کی تشہیر کی جاتی ہے، جبکہ نومولود بچوں کے لیے Breastfeeding ہی سب سے محفوظ، قدرتی اور مکمل غذا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2023 میں منظور کیے گئے قانون کے تحت اگر کوئی طبی ادارہ یا صحت کا کارکن فارمولا دودھ کی غیر ضروری تشہیر کرتا ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے، حتیٰ کہ اس کا پیشہ ورانہ لائسنس بھی معطل یا منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

یونیسیف کے چائلڈ نیوٹریشن اینڈ ڈیولپمنٹ اسپیشلسٹ ڈاکٹر مظہر اقبال نے کہا کہ ہر نومولود بچے کا حق ہے کہ اسے ایسا ماحول میسر ہو جہاں Breastfeeding کی حوصلہ افزائی، تحفظ اور مکمل سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں لاکھوں مائیں اپنے بچوں کو Breastfeeding کرانا چاہتی ہیں، مگر مناسب سہولیات اور معاون نظام کی کمی ان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
انہوں نے حکومت، صحت کے اداروں، نجی شعبے اور معاشرے پر زور دیا کہ وہ ایسی پالیسیاں اور ماحول فراہم کریں جو ہر ماں کو اعتماد اور سہولت کے ساتھ Breastfeeding جاری رکھنے میں مدد دیں، کیونکہ صحت مند معاشرے کی بنیاد ایک صحت مند ماں اور صحت مند بچے سے ہی رکھی جا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں