میر رضا علی کیس میں نیا موڑ، سی سی ٹی وی نے کھڑے کر دیے کئی سوالات

کراچی کے نوجوان کاروباری شخصیت اور وافلکس (Wafflix) کے بانی میر رضا علی کے پراسرار کیس میں ایک نیا موڑ سامنے آ گیا ہے۔ تازہ سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیجز نے تحقیقات کا رخ مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور کئی نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق، سی سی ٹی وی فوٹیج میں میر رضا علی کو گلستانِ جوہر بلاک ون سے اکیلے پیدل گزرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ فوٹیج کے مطابق وہ سروس روڈ سے ہوتے ہوئے ایک نرسری کی جانب بڑھتے ہیں، جہاں بعد ازاں ان کی لاش برآمد ہوئی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ پورے راستے میں کسی دوسرے شخص کو ان کے ساتھ دیکھا نہیں گیا، جس کے باعث یہ سوال مزید اہم ہو گیا ہے کہ وہ اس سنسان مقام پر آخر کیوں گئے؟

رپورٹس کے مطابق جائے وقوعہ انتہائی ویران اور خاموش علاقہ ہے، جہاں رات کے اوقات میں آمدورفت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ اسی دوران ایک اور سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک موٹر سائیکل سوار کو تقریباً 20 سے 30 سیکنڈ تک اسی مقام کے قریب رکتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد وہ وہاں سے روانہ ہو جاتا ہے۔ تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس موٹر سائیکل سوار کا کیس سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ تفتیشی ٹیم اس پہلو کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔

دوسری جانب نرسری کے ایک ملازم، جس نے سب سے پہلے لاش دیکھی تھی، نے بتایا کہ 29 تاریخ کو معمول کے مطابق پودوں کو پانی دیتے ہوئے اس کی نظر لاش پر پڑی، جس کے بعد اس نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ ملازم کا کہنا ہے کہ ایک روز قبل، یعنی 28 تاریخ کو، اسی مقام پر پانی دیتے وقت اسے کوئی لاش دکھائی نہیں دی تھی۔ اس کے مطابق اُس وقت وہاں پانچ سے چھ فٹ اونچے پودے اور گملے موجود تھے، جن کی وجہ سے ممکن ہے کہ پیچھے کا حصہ نظر نہ آیا ہو۔

تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ واقعہ قتل ہے، خودکشی ہے یا کسی حادثے کا نتیجہ۔ پولیس جدید شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیجز، فرانزک رپورٹس اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ موٹر سائیکل سوار کی شناخت بھی تفتیش کا اہم حصہ بن چکی ہے۔

اس کیس کے ہر نئے انکشاف کے ساتھ سوالات بڑھتے جا رہے ہیں، جبکہ اہلِ خانہ اور عوام کی نظریں اب مکمل اور شفاف تحقیقات پر مرکوز ہیں

&nbs;

اپنا تبصرہ لکھیں