ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اسٹریٹجک گزرگاہ آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات سے منسلک ایک آئل ٹینکر کو روک کر تحویل میں لینے کا باضابطہ دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر ایجنسی ‘فارس’ کے مطابق مذکورہ آئل ٹینکر کو ایرانی سمندری حدود کے مقرر کردہ بحری راستے کی خلاف ورزی کرنے، سروس فیس ادا نہ کرنے اور لازمی اجازت نامہ حاصل نہ کرنے کے الزام میں روکا گیا، جس کے بعد جہاز کو جزیرہ قشم کی جانب منتقل کر دیا گیا ہے۔ بحری ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق لائبیریا کا پرچم بردار ٹینکر ‘امارا’ 17 اگست کو آبنائے ہرمز میں داخلے کے بعد جزیرہ قشم کے قریب کھڑا دیکھا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ایک ہفتے کے دوران متحدہ عرب امارات سے منسلک بحری جہازوں کے ساتھ پیش آنے والا یہ تیسرا سنگین واقعہ ہے، جہاں اس سے قبل اماراتی سرکاری کمپنی ‘ایڈنوک’ (ADNOC) کے دو جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا جس کا الزام یو اے ای نے ایران پر عائد کیا تھا۔ ان پے در پے واقعات اور بحری عدم تحفظ کے باعث دنیا کی سب سے بڑی توانائی گزرگاہ یعنی آبنائے ہرمز میں تجارتی مال بردار جہازوں کی نقل و حرکت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور بحری ٹریفک تقریباً تھم گئی ہے۔
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کے قبضے اور کشیدہ صورتحال کے فوری اثرات عالمی تیل کی منڈی پر بھی دیکھے جا رہے ہیں، جہاں برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں 2.7 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا اور فی بیرل قیمت 90.87 ڈالر کی سطح پر جا پہنچی۔ ایران نے مؤقف اپنایا ہے کہ تجارتی جہازوں کی بحالی کے لیے امریکہ کو ان کی شرائط تسلیم کرنا ہوں گی، جبکہ امریکہ کا اصرار ہے کہ بین الاقوامی بحری گزرگاہ پر آمدورفت جاری ہے۔
