سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے تاریخی “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” نے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں ایک طاقتور اور نئے سیکیورٹی اتحاد کی بنیاد رکھ دی ہے۔ مکہ مکرمہ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے دستخطوں سے ہونے والے اس دفاعی معاہدے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سراہتے ہوئے اسے ایک “بڑا، جرات مندانہ اور اہم پہلا قدم” قرار دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ خطے کے ممالک اپنے باہمی تعاون کے ذریعے علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے اور دفاع کو خود مختار انداز میں یقینی بنانے کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔
اس تاریخی معاہدے کی سب سے اہم اور مرکزی شق کے تحت نیٹو کے آرٹیکل 5 کی طرز پر یہ اصول طے کیا گیا ہے کہ اگر ان تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی مسلح حملہ ہوا تو اسے تینوں ممالک پر مشترکہ حملہ تصور کیا جائے گا اور اجتماعی طور پر فوری دفاعی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ خلیج کی سب سے بڑی معاشی و توانائی قوت سعودی عرب، نیٹو کی طاقتور فوج اور جدید دفاعی صنعت کے حامل ترکیہ، اور خطے کی واحد جوہری قوت پاکستان کا یہ سہ فریقی اتحاد خطے کے بدلتے ہوئے جیو پولیٹیکل منظرنامے میں ایک نیا توازن پیدا کرے گا۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ اتحاد جارحانہ نہیں بلکہ خالصتاً دفاعی نوعیت، مشترکہ صلاحیتوں میں اضافے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک حکام کے مطابق اس فریم ورک میں دیگر برادر ممالک کی شمولیت کی گنجائش بھی موجود ہے، جبکہ یہ معاہدہ کسی سابقہ دوطرفہ تعلقات کو متاثر نہیں کرے گا۔ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے تبادلے، مشترکہ فوجی مشقوں، ہتھیاروں کی باہمی پیداوار اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ فوجی کشیدگی اور سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں یہ سہ فریقی اتحاد مسلم ممالک کے اپنے دفاع کو خود انحصاری کی طرف لے جانے کے لیے ایک تاریخ ساز پیش رفت ثابت ہو گا۔
