سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع ایک صوفہ فیکٹری میں اچانک ہولناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں وہاں کام کرنے والے کم از کم 16 بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدور موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ بنگلہ دیش کی وزارتِ برائے مہاجرین کی بہبود اور اوورسیز ایمپلائمنٹ نے سعودی فائر سروس ڈیپارٹمنٹ کی ابتدائی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اس دردناک سانحے کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔ آتشزدگی اتنی شدید تھی کہ فیکٹری میں موجود محنت کشوں کو نکلنے کا موقع نہ مل سکا اور وہ جل کر بحق ہو گئے۔
بنگلہ دیش کے وزیر برائے تارکینِ وطن کی بہبود اور اوورسیز ایمپلائمنٹ عارف الحق چودھری نے اس بھیانک حادثے پر گہرے صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے 16 مزدوروں میں سے 10 افراد کا تعلق بنگلہ دیش کے شمالی ضلع نوگاؤں سے تھا، جبکہ باقی متاثرین شمالی اور مغربی نٹور اور راجشاہی اضلاع کے رہائشی تھے۔ وزیر نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ اپنے پیاروں کا پیٹ پالنے کے لیے دیارِ غیر میں محنت کرنے والے ان بے گناہ مزدوروں کی اس طرح بے وقت اور المناک موت انتہائی دل دہلا دینے والی ہے۔
بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ریاض میں قائم بنگلہ دیشی سفارت خانہ جائے وقوعہ اور مقامی سعودی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ سفارتی حکام کو ہدایت جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ حادثے کی تمام ضروری کارروائی جلد مکمل کروائیں تاکہ جاں بحق ہونے والے تارکینِ وطن کی میتوں کو جلد از جلد ان کے وطن واپس بھیجا جا سکے، جبکہ ان کے غمزدہ خاندانوں کے لیے فوری سرکاری مالی امداد اور قانونی معاوضے کو یقینی بنانے کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
