کراچی میں پولیو وائرس کی موجودگی: بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے فوری اقدام ناگزیر

تحریر: علیزہ عارفین

کراچی میں پولیو وائرس کی موجودگی: لاکھوں لوگوں کی امیدوں کا شہر ہے، آج ایک اہم عوامی صحت کے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔ شہر کے چھ اضلاع سے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی اس بات کی واضح علامت ہے کہ وائرس کی گردش دوبارہ فعال ہوئی ہے۔ جون میں مسلسل نمونوں کے منفی آنے کے بعد اس پیش رفت کو محض ایک معمول کی صحت کی خبر سمجھنا درست نہیں ہوگا، بلکہ یہ بروقت اور مربوط اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔ پولیو ایک ایسی بیماری ہے جس سے مؤثر ویکسین کے ذریعے بچوں کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی علاقے میں وائرس کی موجودگی ہمیں یہ یاد دہانی کراتی ہے کہ حفاظتی ٹیکہ جات کے عمل میں معمولی سی کوتاہی بھی بچوں کے مستقبل کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ خصوصاً کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں جہاں مختلف علاقوں سے لوگوں کی آمدورفت جاری رہتی ہے، بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مضبوط نگرانی اور بھرپور حفاظتی اقدامات نہایت ضروری ہیں۔ اس صورتحال میں وفاقی اور صوبائی محکمۂ صحت، ضلعی انتظامیہ، طبی ماہرین، پولیو ورکرز، تعلیمی اداروں، میڈیا اور سول سوسائٹی کو ایک مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھنا ہوگا۔ صرف ویکسینیشن مہم چلانا کافی نہیں؛ اس کے ساتھ ساتھ ایسے علاقوں کی نشاندہی بھی ضروری ہے جہاں بچوں کو حفاظتی قطرے مکمل طور پر نہیں مل پاتے۔ مؤثر نگرانی، بروقت ماحولیاتی نمونہ جات کی جانچ اور والدین تک درست معلومات کی رسائی اس کوشش کا بنیادی حصہ ہونی چاہیے۔ والدین اور سرپرستوں کا کردار بھی اس قومی ذمہ داری میں انتہائی اہم ہے۔ پولیو ویکسین کے حوالے سے کسی بھی قسم کی افواہ، غلط فہمی یا غیر مصدقہ معلومات پر اعتماد کرنے کے بجائے مستند طبی ذرائع اور محکمۂ صحت کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔ پولیو کے قطرے پلوانا صرف اپنے بچے کی حفاظت نہیں بلکہ پورے معاشرے کے بچوں کو محفوظ بنانے میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔ پولیو ورکرز بھی اس جدوجہد کے اصل ہیروز میں شامل ہیں۔ وہ دشوار حالات میں گھر گھر جا کر بچوں تک حفاظتی قطرے پہنچاتے ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی، عزت اور تعاون ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی ویکسینیشن ٹیم کے ساتھ عدم تعاون دراصل اس بچے کے تحفظ میں رکاوٹ بن سکتا ہے جو ہمار بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے فوری اقدام ناگزیر کراچی، جو پاکستان کا معاشی و صنعتی مرکز اورے معاشرے کی سب سے قیمتی امانت ہے۔ کراچی کی موجودہ صورتحال ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ترقی صرف صنعتی منصوبوں، معاشی سرگرمیوں اور شہری انفراسٹرکچر کا نام نہیں۔ حقیقی ترقی وہ ہے جہاں معیشت کے ساتھ انسانی صحت، تعلیم اور بچوں کا محفوظ مستقبل بھی ریاستی ترجیحات میں شامل ہو۔ کراچی بیک وقت پاکستان کی صنعتی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے والا شہر بھی ہے اور صحت عامہ کے اہم چیلنجز کا سامنا کرنے والا شہری مرکز بھی۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمرانی کے تمام شعبوں میں توازن برقرار رکھتے ہوئے صحتِ عامہ کو بھی وہی اہمیت دی جائے جس کی وہ مستحق ہے۔ آج ضرورت خوف پھیلانے کی نہیں بلکہ شعور بیدار کرنے کی ہے۔ ہر والدین، ہر استاد، ہر ڈاکٹر، ہر صحافی اور ہر ذمہ دار شہری اگر اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرے تو پولیو کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ہمارا عزم واضح ہونا چاہیے: کوئی بچہ پولیو سے معذور نہ ہو، ہر بچے کو ویکسین کا حق ملے، اور کراچی سمیت پورا پاکستان پولیو سے پاک مستقبل کی طرف آگے بڑھے۔ بچوں کا صحت مند مستقبل صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں، یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آج کا ایک حفاظتی قطرہ کل کی ایک پوری زندگی کو معذوری سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں