
سندھ کی تاریخ، زبان، ثقافت اور شناخت اپنی جگہ قابلِ احترام ہیں، لیکن کسی صوبے کی جغرافیائی وحدت کو عوامی مفاد سے بالاتر قرار دینا ایک سنجیدہ انتظامی بحث کو محض نعرے میں بدل دیتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ سندھ ایک رہے یا اس کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی آئے؛ اصل سوال یہ ہے کہ سندھ کے شہری کو اپنے نمائندے، پولیس، اسپتال، اسکول، بلدیاتی ادارے اور ترقیاتی بجٹ تک کتنی رسائی حاصل ہے۔ 2026ء کی عالمی بینک کی رپورٹ نے پاکستان کے اسی بنیادی مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 2010ء کے بعد صوبوں کو اختیارات اور وسائل منتقل ہونے کے باوجود مقامی سطح تک حقیقی اختیارات کی منتقلی محدود رہی، مقامی حکومتوں کے ذریعے ہونے والے سرکاری اخراجات کا حصہ 2005ء کے تقریباً 10 فیصد سے کم ہو کر 2024ء میں 5 فیصد سے بھی نیچے آ گیا، جبکہ مالی سال 2023ء میں صوبائی اخراجات کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ جاری اخراجات میں صرف ہوا اور اضلاع کو وسائل کی تقسیم اب بھی بڑی حد تک پرانے انتظامی طریقۂ کار کے مطابق ہوتی ہے، نہ کہ غربت یا بنیادی سہولتوں کی حقیقی ضرورت کے مطابق۔ یہی وہ خلا ہے جہاں نعرے اور حکمرانی ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں۔ کراچی جیسے شہر میں پانی، نکاسیٔ آب، سڑکوں، کچرے، شہری منصوبہ بندی اور امن و امان کے مسائل کا سامنا کرنے والا شہری آخر کس ادارے کو جواب دہ سمجھے، جب اختیار مختلف صوبائی محکموں اور اداروں میں بٹا ہوا ہو؟ آئین کا آرٹیکل 140-اے سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب مقامی حکومتوں کو منتقل کرنے کا تقاضا کرتا ہے، اور سپریم کورٹ بھی 2022ء میں سندھ کے مقامی اداروں کے لیے بامعنی سیاسی، انتظامی اور مالی اختیار کی ضرورت واضح کر چکی ہے۔
میر رضا علی کا معاملہ اسی بحث کو ایک انسانی چہرہ دیتا ہے۔ پچیس سالہ کاروباری نوجوان 28 جولائی 2026ء کو لاپتا ہوئے، اگلے روز گلستانِ جوہر میں ان کی لاش ملی، اور ابتدائی تفتیش میں موت کے مختلف امکانات زیرِ غور رہے؛ بعد ازاں خاندان کے اعتراضات، عدالتی اجازت اور دوبارہ طبی معائنے کے بعد نئی رپورٹ میں پشت سے گولی لگنے، سر اور چہرے پر متعدد زخموں اور ہڈیوں کے فریکچر سمیت ایسے شواہد سامنے آئے جنہوں نے قتل کے شبہے کو مضبوط کیا، جس کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کی گئی اور نئی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی۔ مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ پولیس کے اپنے جراحی ماہر نے پہلے معائنے میں 14 خامیوں کی نشاندہی کی تھی، جن میں ایکس رے نہ ہونا اور بعض اہم فرانزک نمونوں کا نہ لیا جانا شامل تھا۔ اس کے بعد انصاف کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج میں تقریباً 100 مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج ہونا بھی سامنے آیا۔ یہ واقعہ کسی ایک ادارے یا ایک فرد کے خلاف حتمی فیصلہ نہیں، مگر یہ ایک بنیادی سوال ضرور اٹھاتا ہے: اگر ایک شہری کے اہلِ خانہ کو اپنے پیارے کی موت کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے دوبارہ لاش نکلوانی پڑے، نئی فرانزک جانچ کرانی پڑے اور تفتیشی طریقۂ کار کو چیلنج کرنا پڑے، تو کیا ہمیں صرف یہ کہنا کافی ہے کہ ’’سندھ ایک ہے‘‘؟ سندھ کی وحدت اپنی جگہ، مگر ریاست کی اصل ذمہ داری شہری کی جان، انصاف اور بنیادی سہولت کا تحفظ ہے۔ مضبوط انتظامی اکائیاں، بااختیار بلدیاتی ادارے، واضح ذمہ داریاں اور مقامی سطح پر جواب دہ پولیس و بیوروکریسی اسی لیے ضروری ہیں کہ اختیار اور شہری کے درمیان فاصلہ کم ہو، نہ کہ صرف نقشے پر نئی لکیریں کھینچی جائیں۔
اور تاریخ خود ہمیں بتاتی ہے کہ انتظامی حدود پر سوال اٹھانا سندھ دشمنی نہیں۔ 1936ء میں سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی سے الگ کر کے الگ صوبہ بنایا گیا؛ اس جدوجہد میں انتظامی، مالی اور سیاسی عوامل کے ساتھ سندھ کی مقامی نمائندگی اور شناخت کے سوال بھی شامل تھے۔ تاریخی ریکارڈ بتاتا ہے کہ سندھ کی علیحدگی کے بارے میں اُس دور کی بحث میں انتظامی مشکلات اور مالی پائیداری دونوں باقاعدہ زیرِ غور آئے تھے، جبکہ بعض تاریخی مطالعات اس مطالبے کو سندھ کی مقامی سیاسی اکثریت اور نمائندگی کے سوال سے بھی جوڑتے ہیں۔ یعنی انتظامی بندوبست کو وقت، آبادی اور حکمرانی کی ضرورت کے مطابق تبدیل کرنا کوئی نئی یا غیر فطری بات نہیں۔ آج سوال یہ ہے کہ کیا سندھ کی وحدت کا مطلب یہ ہونا چاہیے کہ صوبائی اختیار کراچی سے لے کر دور دراز اضلاع تک اسی مرکزیت کے ساتھ برقرار رہے، یا سندھ کے ہر شہری کو اس کے قریب ایک بااختیار، موجود اور جواب دہ حکومت بھی ملنی چاہیے؟ عالمی بینک بھی اب واضح طور پر کہتا ہے کہ وسائل کو اسکولوں، بنیادی مراکزِ صحت اور مقامی آبادیوں تک پہنچانے کے لیے وفاقی، صوبائی اور مقامی سطح کے درمیان مالی اختیارات کو بہتر انداز میں جوڑنا ضروری ہے۔ اس لیے سندھ کے مستقبل کی بحث ’’سندھ ایک ہے‘‘ یا ’’سندھ نہیں بٹے گا‘‘ جیسے نعروں سے آگے بڑھنی چاہیے۔ سندھ صرف زمین کا نام نہیں، اس زمین پر رہنے والے کروڑوں انسانوں کا نام بھی ہے۔ اگر انتظامی اصلاح، مضبوط مقامی حکومت، شفاف صوبائی مالیاتی کمیشن، مقامی بجٹ، مؤثر پولیس اور جواب دہ نمائندگی عوام کو زیادہ محفوظ، بااختیار اور خوشحال بنا سکتی ہے تو اسے محض شناخت کے خوف سے مسترد کرنا عوام کے مفاد میں نہیں۔ دھرتی سے محبت اپنی جگہ، مگر دھرتی کے لوگوں کا حق اس سے بھی مقدم ہے؛ سوال یہ نہیں کہ سرحد کہاں رہے گی، سوال یہ ہے کہ اختیار عوام تک کب پہنچے گا۔
