انتظامی اکائیاں: پاکستان کی ضرورت یا سیاست کی قید؟

پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کا سوال کوئی نیا سیاسی نعرہ نہیں۔ یہ دراصل اس بنیادی سوال سے جڑا ہوا ہے کہ کیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ ایک ایسی ریاست کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے جس کی آبادی، شہری پھیلاؤ اور معاشی پیچیدگیاں گزشتہ کئی دہائیوں میں کئی گنا بڑھ چکی ہیں؟

آج پاکستان میں حکومت اور عوام کے درمیان سب سے بڑا مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں، بلکہ وسائل تک رسائی، اختیارات کی مرکزیت اور فیصلہ سازی کا عوام سے دور ہونا بھی ہے۔ بڑے صوبے، وسیع جغرافیہ اور غیر مساوی ترقی نے ایسے انتظامی خلا پیدا کیے ہیں جہاں ایک ہی صوبے کے ایک حصے کو وہ توجہ نہیں مل پاتی جو دوسرے حصے کو حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کا سوال بار بار سامنے آتا ہے۔ حالیہ دنوں میں بھی وفاقی سطح پر اس بحث نے دوبارہ شدت اختیار کی ہے۔ کراچی کا معاملہ محض ایک شہر کا مسئلہ نہیں

کراچی پاکستان کا معاشی انجن ہے۔ بندرگاہ، صنعت، تجارت، مالیاتی سرگرمی اور قومی محصولات میں اس کا کردار غیر معمولی ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا کراچی کو اس کی آبادی اور معاشی اہمیت کے مطابق انتظامی اختیار اور وسائل حاصل ہیں؟

کراچی کو الگ انتظامی اکائی بنانے کے حامی اسے لسانی تقسیم نہیں بلکہ بہتر حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مقامی فیصلہ سازی کا مسئلہ قرار دیتے ہیں۔ دوسری جانب سندھ کی بڑی سیاسی قوتیں اسے سندھ کی وحدت اور تاریخی شناخت سے جوڑتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی کا انتظامی سوال چند نشستوں یا ایک شہر کی حدود سے آگے بڑھ کر صوبائی سیاست کا حساس ترین موضوع بن چکا ہے۔

لیکن یہاں ایک بنیادی سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے: کیا انتظامی اصلاح لازماً ثقافتی یا قومی شناخت کے خلاف ہوتی ہے؟ اگر کسی نئے انتظامی یونٹ کا قیام آئین، جمہوری رضامندی اور عوامی خواہش کے مطابق ہو تو اس کا مقصد کسی زبان، ثقافت یا شناخت کو ختم کرنا نہیں بلکہ ریاستی نظام کو عوام کے قریب لانا ہونا چاہیے۔ مخالفت کے پیچھے صرف جذبات نہیں، طاقت بھی ہے

نئے انتظامی یونٹس کی مخالفت کو صرف قوم پرستی یا جذباتی سیاست سے سمجھنا بھی مکمل تصویر نہیں۔ صوبائی ڈھانچے کے ساتھ سیاسی اختیار، ترقیاتی وسائل، سرکاری ادارے، ملازمتیں، بجٹ اور انتخابی اثر و رسوخ جڑے ہوتے ہیں۔ کسی بڑے صوبے کو تقسیم کرنے کا مطلب صرف نقشے پر ایک نئی لکیر کھینچنا نہیں بلکہ طاقت اور وسائل کی نئی تقسیم بھی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی مفادات انتظامی اصلاح کے راستے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

سندھ میں بھی نئے صوبے کے مطالبے کی مخالفت کو سیاسی جماعتیں سندھ کی وحدت اور شناخت کے تحفظ کے طور پر پیش کرتی رہی ہیں۔ دوسری طرف کراچی کے بعض سیاسی حلقے اسے شہری علاقوں کے انتظامی اور سیاسی حقوق کا معاملہ قرار دیتے ہیں۔

اس تناظر میں قوم پرست سیاست کے کردار کو بھی جذبات سے ہٹ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر انتظامی مسئلے کو ہر مرتبہ سندھ توڑنے کی سازش کے عنوان سے پیش کیا جائے تو عوامی بحث انتظامی کارکردگی سے نکل کر شناخت کے خوف میں داخل ہو جاتی ہے۔ تاہم ہر قوم پرست آواز کو کسی خفیہ منصوبے کا حصہ قرار دینا بھی صحافتی طور پر درست نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی اختلاف کو عوامی مفاد پر ترجیح دی جا رہی ہے؟

پاکستان کو نقصان کہاں ہو رہا ہے؟ جب فیصلہ سازی چند بڑے مراکز تک محدود رہتی ہے تو دور دراز علاقوں کے مسائل ترجیحات کی فہرست میں پیچھے چلے جاتے ہیں۔ تعلیم، صحت، پانی، صفائی، بنیادی ڈھانچے اور روزگار جیسے معاملات میں مقامی ضرورت کے مطابق فوری فیصلے مشکل ہو جاتے ہیں۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف نئے صوبے بنا دینا تمام مسائل کا حل نہیں۔ اگر نیا انتظامی یونٹ بھی وہی غیر شفاف، غیر جواب دہ اور مرکزی نظام اختیار کرے تو نقشہ بدلنے سے عوام کی زندگی نہیں بدلے گی۔ ایک حالیہ تجزیے میں بھی یہی نکتہ سامنے آیا کہ نئے صوبوں کے ساتھ بااختیار بلدیاتی نظام اور مالی اختیارات کی حقیقی منتقلی ضروری ہے۔

اس لیے پاکستان کو نئے انتظامی یونٹس اور مضبوط مقامی حکومت، دونوں کی ضرورت پر بیک وقت غور کرنا چاہیے۔ اصل فیصلہ عوام کا ہونا چاہیے
یہ مسئلہ کسی ایک جماعت، ایک صوبے یا ایک شہر کی ملکیت نہیں۔ یہ پورے پاکستان کے انتظامی مستقبل کا سوال ہے۔

اگر کسی علاقے کے عوام سمجھتے ہیں کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ ان کی ضروریات پوری نہیں کر رہا تو اس مطالبے کو محض غداری، تقسیم یا سازش کا نام دے کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح نئے صوبے کا مطالبہ بھی طاقت یا جذبات کے ذریعے نہیں بلکہ آئین، پارلیمان، عوامی رضامندی اور شفاف طریقۂ کار کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے۔ موجودہ آئینی بحث بھی یہی بتاتی ہے کہ صوبائی حدود میں تبدیلی ایک پیچیدہ آئینی عمل ہے اور اسے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے درکار ہے۔

آخرکار پاکستان کی طاقت اس بات میں نہیں کہ اس کے نقشے پر کتنی انتظامی اکائیاں موجود ہیں۔ اصل طاقت اس وقت پیدا ہوگی جب کراچی سے گوادر، تھرپارکر سے گلگت اور جنوبی پنجاب سے خیبر تک ہر شہری کو یہ یقین ہو کہ ریاست اس کی آواز سنتی ہے، اس کے وسائل کا حساب دیتی ہے اور اس کی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے اس کے قریب موجود ہے۔

انتظامی یونٹس کا مقصد پاکستان کو تقسیم کرنا نہیں ہونا چاہیے؛ مقصد پاکستان کو بہتر طور پر چلانا ہونا چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں