
گل پلازہ میں ہونے والی حادثہ کے بارے میں بات کریں تو یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو 2021 سے اٹھایا گیا تھا، مگر اس کے باوجود اسے روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ سندھ میں شہری تحفظ کے معاملے میں کافی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔
گل پلازہ کا حادثہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطرات کی نشاندہی تو ہوتی ہے مگر ان پر کارروائی کرنے میں کافی کمزوری دیکھی جاتی ہے۔ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گل پلازہ کے ساتھ ایک طویل عرصے سے مسئلہ ہے، مگر کوئی بھی اس پر مؤثر کام نہیں کیا گیا۔
2021 میں فائر ڈیپارٹمنٹ کے معائنے میں اس عمارت میں کافی خامیاں پائی گئی تھیں۔ اس میں فائر ایکسٹنگوشرز کی کمی، فائر الارم کی عدم موجودگی، اسپرنکلر اور دیگر ضروری سہولیات کی ناقص حالت شامل تھی۔ مگر اس کے باوجود عمارت کو محفوظ نہیں کیا گیا۔ 2024 اور 2025 میں سول ڈیفنس کے معائنے میں بھی اسی طرح کی خامیاں دوبارہ سامنے آئیں۔
ایک اور بات یہ ہے کہ عمارت کے ریکارڈ میں درج دکانیں اصل تعداد سے کم تھیں، مگر واقعی 1153 دکانیں موجود تھیں۔ یہ بات بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس عمارت کی تعمیر اور اس کی نگرانی میں بہت سی غلطیاں ہوئیں۔
اگر حادثے کے وقت خطرات کی نشاندہی ہوچکی تھی، تو اسے روکنے کی ذمہ داری کس ادارے کی ہے؟ اگر حکومت کے پاس قوانین اور اختیارات موجود تھے تو انہیں کیوں نہیں استعمال کیا گیا؟ یہ صرف مالکان کی ناکامی نہیں ہے، بلکہ حکومتی اداروں کے درمیان انتظامی خلا کی بات ہے۔
گل پلازہ کے معاملے میں ناکامی ایک ادارے تک محدود نہیں رہی۔ مختلف ادارے اس معاملے میں شامل ہیں، مگر ان کے درمیان کوئی مؤثر کمان نہیں تھی۔ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایک مشترکہ فائر سیفٹی آڈٹ کی ضرورت تھی، مگر وہ عمل میں نہیں لایا گیا۔
اس معاملے میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے پاس اختیارات تھے، مگر ان کی کارروائی کی کمی پر سوال اٹھائے گئے۔ بجلی کے معائنے کے حوالے سے بھی کمیشن کے سامنے یہ بات آئی کہ واقعی معائنہ نہیں ہوا۔
حادثے کے وقت جو صورتحال تھی، وہ بھی سنگین تھی۔ آگ لگنے کی اطلاع دینے میں تاخیر ہوئی، بجلی منقطع ہوگئی، اسپیکر نظام کام نہ کر سکا، فائر فائٹنگ کا کام تقریباً 35 سے 40 منٹ بعد شروع ہوا۔ اس ساری صورتحال میں کارروائی میں کافی دیر ہوئی۔
نتیجہ یہ ہوا کہ 73 افراد جاں بحق ہوئے۔ انسانی جانیں ضائع ہوئیں، کاروبار تباہ ہوئے، خاندان اجڑ گئے۔ یہ سب کچھ ایک ممکنہ نقصان تھا جسے پہلے روکا جا سکتا تھا۔
اس حادثے کو 2012 کے بلدیہ فیکٹری حادثے سے بھی جوڑا جا سکتا ہے۔ دونوں واقعات کے درمیان تفصیل مختلف ہے، مگر بنیادی سوال ایک ہی ہے: کیا ادارے خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کر کے انہیں محفوظ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یا کیا ان پر کارروائی فقط حادثے کے بعد ہوتی ہے؟
انتظامی اکائیوں کی اہمیت صرف سیاسی یا جغرافیائی بحث نہیں ہے، بلکہ اس سے انسانی جان کے تحفظ کا سوال جڑا ہوا ہے۔ ایک مؤثر انتظامی سسٹم وہ ہوتا ہے جہاں اختیار، وسائل اور ذمہ داری واضح ہو۔
کراچی میں جب بلڈنگ کنٹرول، فائر سیفٹی، ضلعی نگرانی، بجلی کی حفاظت اور ہنگامی امداد مختلف اداروں کے ذمے ہو، مگر کوئی ایک انتظامی سطح سامنے نہ آئے، تو اداروں کی کثرت سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ بلکہ ذمہ داری ایک دوسرے کے درمیان منتقل ہو جاتی ہے۔
گل پلازہ اور بلدیہ فیکٹری کے واقعات اس بات کی یاد دہانی کرتے ہیں کہ اداروں کی کثرت اس معاملے میں کوئی حل نہیں ہے۔ یہی وہ ہے جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر حکومت خطرہ دیکھ سکتی ہے، تو اسے روکنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟
کراچی کو ایسا نظام درکار ہے جہاں جواب سانحے کے بعد نہیں، بلکہ سانحے سے پہلے ہو۔ اس لیے اہم ایسی انتظامی اکائیاں بنائی جائیں جہاں شہری تحفظ کی ذمہ داری واضح ہو۔ یہی اصل سبق ہے جو گل پلازہ سے سیکھنا ہے۔
