چکوال (رپورٹ: ولید علی چوہدری) 15 جون 2026
چکوال میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکار کی جانب سے ڈاکو سمجھ کر کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والی 9 سالہ آسٹریلوی نژاد پاکستانی بچی ہانیہ عدیل کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے ملزم اہلکار کے خلاف درج مقدمے میں قتلِ عمد (دفعہ 302) شامل کر دی ہے۔

مقدمے میں قانونی ترمیم
ذرائع کے مطابق، ابتدائی طور پر اس مقدمے کو دفعہ 322 (قتلِ خطا) کے تحت درج کیا گیا تھا، تاہم واقعے کی سنگینی اور شواہد کے پیشِ نظر اب اس میں قتلِ عمد کی دفعہ شامل کر دی گئی ہے۔ گرفتار اہلکار کے قبضے سے فائرنگ میں استعمال ہونے والی رائفل بھی برآمد کر لی گئی ہے، جبکہ ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ مزید برآں، کیس کی تفتیش سٹی پولیس سے واپس لے کر سی سی ڈی کے سپرد کر دی گئی ہے تاکہ شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے۔

سانحہ چکوال کا پس منظر
39 سالہ عدیل احمد، جو آسٹریلیا کے شہری ہیں، حال ہی میں اپنی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ خان، 10 سالہ بیٹے عفان اور 9 سالہ بیٹی ہانیہ کے ساتھ پاکستان آئے تھے۔ بدھ کی رات جب یہ خاندان اپنے سسر کے گھر سے واپس روانہ ہوا تو ڈاکوؤں نے انہیں لوٹ لیا۔ اسی دوران سی سی ڈی کے ایک اہلکار نے ڈاکوؤں کا پیچھا کرتے ہوئے گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ہانیہ موقع پر جاں بحق جبکہ اس کے والد عدیل اور بھائی عفان شدید زخمی ہو گئے۔ ڈاکٹر سدرہ خان اس واقعے میں معجزانہ طور پر محفوظ رہیں۔

ملزمان کا منطقی انجام
پولیس کے مطابق، چکوال میں ڈکیتی کرنے والے دونوں ڈاکوؤں کو جمعرات کی رات سی سی ڈی کے ساتھ ہونے والے ایک مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ملزمان محمد عباس اور محمد فیاض پنجاب کے مختلف علاقوں میں ایک درجن سے زائد ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث تھے۔حکومتی سطح پر ایکشن،سی سی ڈی پنجاب کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ کا آج ڈھڈیال کا دورہ متوقع ہے، جہاں وہ جاں بحق بچی کی قبر پر فاتحہ خوانی کریں گے اور سوگوار خاندان سے تعزیت و ہمدردی کا اظہار کریں گے۔ ایڈیشنل آئی جی دورے کے دوران سانحہ چکوال کی تحقیقات اور اب تک ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیں گے۔ اس سے قبل ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) چکوال نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے جے آئی ٹی (JIT) تشکیل دی تھی جو جلد اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
