کراچی (ویب ڈیسک) 1 جولائی 2026
خیبر پختونخوا کے خوبصورت بالائی ضلع لوئر چترال کے علاقے بروز اور اس کے مضافاتی علاقوں میں اچانک ہونے والی موسلا دھار اور شدید ترین بارش نے تباہی مچا دی ہے، جس کے باعث مقامی ندی نالوں میں ہولناک طغیانی آ گئی ہے۔ پہاڑوں سے آنے والے تیز رفتار اور بپھرے ہوئے سیلابی ریلوں کی وجہ سے چترال کے متعدد رہائشی علاقے شدید ترین سیلابی صورتحال کی زد میں آ گئے ہیں، جس سے سرکاری و نجی املاک اور انفراسٹرکچر کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ اچانک آنے والے اس قدرتی آفت اور سیلاب کے باعث پورے چترال میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور مقامی آبادی شدید خوف و ہراس کا شکار ہو کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہو گئی ہے۔
لوئر چترال کے ضلعی ریسکیو ذرائع کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق، بروز، سینکلوم، بروز گول، گولدہ اور دومون کے گنجان آباد علاقوں میں سیلابی ریلے داخل ہونے سے کئی مکانات کی دیواریں اور چھتیں گر گئیں جبکہ متعدد خستہ حال گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف پہاڑی ندی نالوں پر بنے ہوئے اہم ترین رابطہ پل بھی سیلابی پانی کے تیز بہاؤ کی تاب نہ لاتے ہوئے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جس کے باعث لوئر اور اپر چترال کے درمیان گاڑیوں کی آمدورفت اور پیدل چلنے والے شہریوں کے لیے نقل و حرکت میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں اور نظامِ زندگی درہم برہم ہو گیا ہے۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق، بروز گول کے مقام پر قائم مرکزی رابطہ پل سیلابی ریلے کی نذر ہونے اور اس کا ایک بڑا حصہ ٹوٹنے کے بعد سڑک کے دونوں اطراف سینکڑوں گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں اور ہر قسم کی ٹریفک متبادل راستے نہ ہونے کی وجہ سے مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے۔ اس بڑے حادثے کے نتیجے میں چترال کے متعدد دور دراز دیہات کا ضلعی ہیڈکوارٹر سے زمینی رابطہ بھی مکمل طور پر کٹ گیا ہے، جس کی وجہ سے محصور ہونے والے مکینوں کو پینے کے صاف پانی اور راشن کی قلت کا سامنا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے ریسکیو 1122 کی ٹیموں کو ہائی الرٹ کرتے ہوئے متاثرہ دیہات میں امدادی کارروائیاں شروع کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
لوئر چترال میں شدید بارش اور پہاڑی نالوں میں آنے والے سیلابی ریلوں کے باعث مختلف مقامات پر بجلی کی سپلائی لائنوں اور کھمبوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے کئی بجلی کے کھمبے زمین بوس ہو گئے ہیں اور پورے علاقے میں بجلی کی فراہمی مکمل معطل ہے۔ پیسکو کی ٹیمیں خراب موسم کے باوجود بجلی کی بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہیں۔ چترال کی ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے اور مالی و جانی نقصانات کا فوری تخمینہ لگانے کا عمل شروع کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب ڈپٹی کمشنر نے تمام شہریوں کو بارشوں کے اس سیزن میں غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور ندی نالوں کے قریب جانے سے سختی سے احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
