احسن ظفر بختاوری کے مطابق بجٹ میں ریئل اسٹیٹ ریلیف، سپر ٹیکس کمی اور سرمایہ کاری میں اضافے کے امکانات روشن قرار
تنخواہ دار طبقے، آئی ٹی اور ایکسپورٹ سیکٹر کے لیے حکومتی اقدامات مثبت پیش رفت قرار
چھوٹے کاروبار کے لیے مزید ریلیف اور فکسڈ ٹیکس سسٹم میں شفافیت ناگزیر، احسن ظفر بختاوری کا زور
زراعت کو نظر انداز کرنا خطرناک، درآمدی پابندیوں اور کاشتکار کو مناسب معاوضہ دینے کی فوری ضرورت، احسن بختاوری کا مطالبہ

اسلام آباد/کراچی 15 جون 2026 ء
سرپرست اعلیٰ آذربائیجان پاکستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز احسن ظفر بختاوری نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو مجموعی طور پر ایک متوازن بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں مختلف شعبوں کے لیے دی گئی مراعات معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گی۔اپنے ایک بیان میں احسن ظفر بختاوری نے کہا کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر دی گئی ریلیف اور ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی سے سرمایہ کاری کے رجحان میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ سپر ٹیکس میں کمی اور دیگر ٹیکسوں میں نرمی کاروباری برادری کے لیے نہایت حوصلہ افزا اقدامات ہیں، جس سے مارکیٹ میں اعتماد بحال ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی ایک خوش آئند اقدام ہے، جس سے متوسط طبقے کو کچھ حد تک ریلیف ملے گا۔ اسی طرح آئی ٹی اور ایکسپورٹ سیکٹر کے لیے دی گئی سہولیات سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جو ملکی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
احسن بختاوری نے ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے لیے 88 ارب روپے کی تخصیص کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ ایک مثبت قدم ہے، تاہم برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کے لیے اس فنڈ میں مزید وسعت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں مقابلے کے لیے پاکستانی برآمد کنندگان کو مزید سہولیات فراہم کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے فکسڈ ٹیکس سسٹم کو ایک اچھا اقدام قرار دیا، تاہم اس کے مؤثر نفاذ کے لیے شفاف اور واضح طریقہ کار کو ضروری قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس نظام میں شفافیت نہ ہوئی تو اس کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکیں گے۔چھوٹے کاروباری طبقے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس شعبے کو مزید واضح اور عملی ریلیف دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آسان کاروبار (Ease of Doing Business) کے لیے مزید جامع اصلاحات متعارف کروائی جائیں تاکہ نئے سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو۔
زراعت کے شعبے پر بات کرتے ہوئے احسن ظفر بختاوری نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں اس اہم شعبے کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے، جبکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے بھی اس پر خصوصی توجہ نہیں دی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کاشتکاروں کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ نہ ملا تو وہ زراعت کا شعبہ چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے، جو ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہوگا۔انہوں نے تجویز دی کہ مقامی کاشتکاروں کے تحفظ کے لیے ایگرو پراڈکٹس کی درآمدات پر پابندی عائد کی جائے، جیسا کہ گندم اور چینی کے معاملے میں کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کپاس اور دیگر زرعی اجناس کی درآمدات روکنے سے نہ صرف زرمبادلہ کی بچت ہوگی بلکہ کاشتکاروں کو بھی اپنی پیداوار کی بہتر قیمت ملے گی۔آخر میں انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ زراعت کے شعبے کی بھرپور حوصلہ افزائی کرے کیونکہ اس میں بے پناہ پوٹینشل موجود ہے۔ مجموعی طور پر یہ بجٹ ایک متوازن کوشش ضرور ہے، تاہم مہنگائی میں کمی، صنعتی بحالی اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے مزید واضح اور مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
