ڈاکٹر محمد آصف خان کے مطابق تعلیم کے لیے 117 ارب روپے مختص، لیٹریسی ریٹ اور معیار تعلیم بہتر ہونے کی توقع
اعلیٰ تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے خطیر فنڈز مختص، جامعات اور تحقیق کو فروغ ملے گا، ڈاکٹر آصف خان کا بیان
وزیراعظم یوتھ پروگرام کے لیے 18 ارب روپے، نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جائیں گے
تعلیمی انفراسٹرکچر میں بہتری اور مستقبل کی افرادی قوت مضبوط بنانے کے لیے بجٹ مثبت قدم، ڈاکٹر محمد آصف خان کا اظہار

کراچی، 15 جون 2026ء
معروف کاروباری شخصیت، فاؤنڈر چیئرمین و سی ای او ہیپی پیلس گروپ آف اسکولز ڈاکٹر محمد آصف خان نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو تعلیم کے شعبے کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے اس اہم شعبے کے لیے فنڈز میں اضافہ ایک مثبت پیش رفت ہے جو مستقبل میں نمایاں نتائج دے سکتی ہے۔اپنے بیان میں ڈاکٹر محمد آصف خان نے کہا کہ وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں تعلیم کے لیے تقریباً 117.75 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 4.5 فیصد زیادہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اضافے سے نہ صرف شرح خواندگی میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک میں معیار تعلیم کو بھی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ میں وفاقی تعلیمی ترقیاتی منصوبوں کے لیے 36 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو ملک بھر میں تعلیمی اداروں کی بہتری اور نئے منصوبوں کے آغاز میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اسی طرح اعلیٰ تعلیم کے لیے تقریباً 46 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، جس سے جامعات، تحقیق اور جدید تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ڈاکٹر محمد آصف خان نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے لیے 18.1 ارب روپے مختص کرنے کے اقدام کو بھی سراہا اور کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جائیں گے، جس سے ملک کی نوجوان آبادی کو بااختیار بنانے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم کے مجموعی بجٹ میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت تعلیم کے شعبے کو ترقی دینے میں سنجیدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز سے اسکولوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں کے انفراسٹرکچر میں بہتری آئے گی، جس سے طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول میسر آئے گا۔ڈاکٹر محمد آصف خان نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری درحقیقت ملک کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم اور نوجوانوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دینے سے ایک مضبوط اور باصلاحیت افرادی قوت تیار کی جا سکتی ہے، جو ملک کی معاشی اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اسی طرح تعلیم کے شعبے پر توجہ دیتی رہی اور پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھا گیا تو آنے والے برسوں میں پاکستان تعلیمی میدان میں نمایاں ترقی حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ بجٹ ملک کے تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔
