عوام کو بڑا ریلیف: وفاقی حکومت کا پیٹرولیم پرائسز اسٹیبلائزیشن فنڈ قائم کرنے کا تاریخی اعلان، قیمتوں کا طوفان تھم جائے گا!

کراچی (ویب ڈیسک) 30 جون 2026

وفاقی حکومت نے عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے مسلسل اور ہولناک اتار چڑھاؤ سے پریشان حال عوام کو بچانے کے لیے ایک انتہائی بڑا اور انقلابی قدم اٹھا لیا ہے۔ ملک میں مہنگائی کے طوفان کو روکنے اور ایندھن کے نرخوں کو ایک مستقل سطح پر برقرار رکھنے کے لیے وفاقی کابینہ کے خصوصی فیصلے کی روشنی میں “پیٹرولیم پرائسز اسٹیبلائزیشن فنڈ” قائم کر دیا گیا ہے۔ حکومت کے اس تاریخی اور اسٹریٹجک فیصلے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھنے کے باوجود ملکی سطح پر پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں کو مستحکم رکھا جائے تاکہ غریب اور متوسط طبقے پر کسی قسم کا اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔ اس فنڈ کی بدولت اب پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اچانک اضافے کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا جس سے پبلک ٹرانسپورٹ اور روزمرہ کی اشیاء خورونوش کی قیمتیں بھی قابو میں رہیں گی۔

وزارتِ خزانہ پاکستان نے اس خصوصی فنڈ کے باقاعدہ قیام کا آفیشل نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے بعد اس نئے مالیاتی میکنزم کو فوری طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے اہم ترین نکات کے مطابق اس فنڈ کے تحت جمع ہونے والے تمام تر مالی وسائل اور سرمایہ وفاق کے پبلک اکاؤنٹ میں محفوظ رکھا جائے گا تاکہ اس رقم کو کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔ حکومت نے اس فنڈ کے تمام تر انتظامی اور حساباتی امور کو سو فیصد شفاف رکھنے کے لیے ایک بالکل الگ اور مخصوص اکاؤنٹنگ ہیڈ بھی مختص کر دیا ہے جس کی براہِ راست نگرانی اعلیٰ سرکاری حکام کریں گے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فنڈ ملکی معیشت کے لیے ایک ڈھال ثابت ہوگا جو بین الاقوامی سطح پر تیل کے بحران کے وقت ملکی مارکیٹ کو شدید جھٹکوں سے محفوظ رکھے گا اور تاجر برادری سمیت عام صارفین کو کاروباری تسلسل برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرے گا۔

حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق اس پیٹرولیم پرائسز اسٹیبلائزیشن فنڈ کو مکمل طور پر فعال اور مانیٹر کرنے کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور وزارتِ خزانہ کو مشترکہ ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔ یہ دونوں اہم ترین ادارے مل کر فنڈ کے آپریشنل طریقہ کار، روزمرہ کی گورننس اور طویل مدتی آپریشنل فریم ورک کو فول پروف بنانے کے لیے جامع حکمتِ عملی تیار کر رہے ہیں۔ اس فنڈ کے تمام انتظامی اور مالیاتی رولز و ضوابط کو پارلیمنٹ اور کابینہ سے الگ سے منظور کروایا جائے گا تاکہ مستقبل میں بھی اس کی قانونی حیثیت اور شفافیت پر کوئی سوال نہ اٹھ سکے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ جب عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہو تو لیوی یا دیگر ٹیکسوں کے ذریعے حاصل ہونے والا سرمایہ اس فنڈ میں جمع کیا جائے تاکہ بوقتِ ضرورت اسی سرمائے سے عوام کو پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری سبسڈی فراہم کی جا سکے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے اس فنڈ کے قیام کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان، چاروں صوبائی حکومتوں، آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کی انتظامیہ اور تمام پبلک و پرائیویٹ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو باضابطہ طور پر تحریری طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔ مرکزی بینک کو اس حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ نئے اکاؤنٹنگ ہیڈ کے تحت فنڈز کی منتقلی اور کلیئرنس کے عمل کو تیز ترین بنائے۔ صوبائی حکومتوں نے بھی وفاق کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے کیونکہ پیٹرول کی قیمتیں مستحکم رہنے سے صوبائی سطح پر ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیاء کی قیمتوں کی نگرانی کرنا آسان ہو جائے گا۔ عوام اور تاجر برادری نے حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس نئے مالیاتی میکنزم پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا تاکہ ملک میں مہنگائی کی شرح کو مستقل طور پر نیچے لایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں