کراچی (ویب ڈیسک) 9 جولائی 2026
شارجہ سے کراچی آتے ہوئے گزشتہ شب بحیرہ عرب میں حادثے کا شکار ہونے والے نجی کمپنی ‘کے ٹو ایئرویز’ کے بدقسمت کارگو طیارے (بوئنگ 737) کے حوالے سے انتہائی اہم اور بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے باقاعدہ تصدیق کی ہے کہ پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (پی ایم ایس اے) نے مشترکہ طور پر 12 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے انتہائی کٹھن اور ہنگامی سرچ آپریشن کے بعد طیارے کا ملبہ تلاش کر لیا ہے۔ پی اے اے کے مطابق، طیارے کا ملبہ بلوچستان کے ساحلی مقام اورماڑہ سے تقریباً 53 ناٹیکل میل جنوب میں گہرے سمندر سے ملا ہے۔ تاہم، سمندر کی بپھری ہوئی تیز لہروں اور جون، جولائی کے ناسازگار موسم کے باعث امدادی ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، اور طیارے کا انتہائی اہم کاک پٹ وائس ریکارڈر (CVR)، بلیک باکس اور کاک پٹ میں سوار عملے کے 5 ارکان تاحال لاپتا ہیں جن کی تلاش کے لیے آپریشن کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
PN and PMSA after 12 hours of Search & Rescue operations in deep Sea have successfully located and identified wreckage of K2 Airways Cargo B737 which was declared missing last night. The wreckage was recovered from 53 NM South of ORMARA. pic.twitter.com/0dZpj8s7u3
— Pakistan Airports Authority (@Pk_PAA_Official) July 8, 2026
ذرائع کے مطابق، جدید ترین ٹیکنالوجی اور سراغ رساں آلات سے لیس پاک بحریہ کے دو بڑے جنگی جہاز ‘پی این ایس ذوالفقار’ اور ‘پی این ایس حنین’ طویل سمندری پٹی میں دن رات ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں، جبکہ پاک بحریہ اور فضائیہ کے خصوصی طیارے بھی فضائی نگرانی کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ نے اپنے اعلامیے میں بتایا کہ منگل کی شب 9 بج کر 21 منٹ پر ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ ٹوٹنے والے اس بوئنگ طیارے کے کاک پٹ میں پائلٹ محمد رضوان ادریس، فرسٹ آفیسر فیصل محمود، لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان، اور انجینئرز عارف صدیقی و محمد حامد سوار تھے۔ حادثے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے کراچی ایئرپورٹ انتظامیہ نے تحقیقاتی شواہد کو محفوظ بنانے کی غرض سے کے ٹو ایئرویز کا مرکزی دفتر فوری طور پر سیل کر دیا ہے تاکہ ریکارڈ کے ساتھ کسی قسم کی چھڑچھاڑ نہ کی جا سکے۔

سول ایوی ایشن کے ذرائع نے طیارے کی تباہی کے آخری لمحات کی ہولناک تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ لاپتا ہونے سے چند منٹ پہلے طیارے نے نیوی گیشن سسٹم میں شدید تیکنیکی خرابی کی اطلاع دی تھی۔ اس کے فوراً بعد 35 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرنے والا طیارہ اپنے مقررہ روٹ سے اچانک دائیں جانب مڑا اور انتہائی قلیل وقت میں خطرناک حد تک نیچے گرتے ہوئے محض 11 ہزار فٹ پر آ گیا، جس کے بعد پائلٹ کا رابطہ ہمیشہ کے لیے منقطع ہو گیا۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ طیارہ شارجہ میں پانچ روز سے خراب کھڑے ایک اور طیارے کی مرمت کے لیے فاضل پرزہ جات پہنچانے گیا تھا اور فیری فلائٹ (خالی طیارہ) کے طور پر واپس کراچی آ رہا تھا کہ حادثے کا شکار ہو گیا۔ واقعے کی اعلیٰ سطحی انکوائری کے لیے ‘بیورو آف سیفٹی انویسٹی گیشن’ کی 11 رکنی ہائی پروفائل ٹیم کراچی پہنچ چکی ہے، جو کے ٹو ایئرویز کے ریکارڈ کا جائزہ لینے اور بیانات قلمبند کرنے کے بعد اب بلوچستان کے ساحلی علاقے کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔
🚨 شارجہ سے کراچی آنے والا کارگو طیارہ خلیج میں لاپتا، بحری و فضائیہ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن شروع!
