اسلام آباد ویب ڈیسک | 2 جون 2026
وفاقی حکومت نے سرکاری اداروں میں شفافیت کو یقینی بنانے اور دہری شہریت کے حامل سرکاری افسران کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے لیے اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیرِاعظم کی خصوصی منظوری کے بعد اسٹبلشمنٹ ڈویژن نے یکم جون 2026 کو ایک نیا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جس کے تحت اب سرکاری ملازمین کے لیے غیر ملکی شہریت اور سفری دستاویزات رکھنے کے حوالے سے سخت ضابطہ کار کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔ نئے قوانین کے مطابق، ہر سرکاری ملازم کے لیے لازم ہوگا کہ وہ اپنی تقرری کے وقت اور پھر ہر سال باقاعدگی سے اپنی اور اپنے زیرِ کفالت افراد (بیوی اور بچے) کی غیر ملکی شہریت یا غیر ملکی سفری دستاویزات (پاسپورٹ وغیرہ) کے بارے میں ڈیکلریشن جمع کروائے۔
شانگلہ میں المناک حادثہ: مکان کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق، ایک بچی معجزانہ طور پر محفوظ
سول سروسز ایکٹ 1973 کے تحت نافذ کیے گئے ان نئے قوانین کا مقصد سرکاری ملازمت میں دہری شہریت کے تضادات کو ختم کرنا ہے۔ نوٹیفکیشن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اگر کوئی ملازم اپنی یا اپنے زیرِ کفالت افراد کی غیر ملکی شہریت کے بارے میں غلط معلومات فراہم کرتا ہے یا اسے صیغۂ راز میں رکھتا ہے، تو اس کی تقرری کو شروع ہی سے کالعدم قرار دیا جائے گا اور اسے کسی بھی وقت ملازمت سے برطرف کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، اب کسی بھی سرکاری ملازم یا اس کے زیرِ کفالت فرد کے لیے نئی غیر ملکی شہریت حاصل کرنا یا غیر ملکی سفری دستاویز لینا ممنوع قرار دے دیا گیا ہے، ماسوائے اس کے کہ وہ اپنی متعلقہ اتھارٹی سے پیشگی اجازت حاصل کرے۔
ایس ای سی پی کا کارپوریٹ شفافیت کیلئے بڑا قدم: ’’سرٹیفکیٹ آف اسٹیچوٹری کمپلائنس‘‘ فریم ورک متعارف
حکومت نے اس عمل کو شفاف بنانے کے لیے 90 دن کی مہلت دی ہے۔ تمام موجودہ سرکاری ملازمین پابند ہوں گے کہ وہ نوٹیفکیشن کے اجرا کے 90 دنوں کے اندر اپنی اور اپنے زیرِ کفالت افراد کی غیر ملکی شہریت کا گوشوارہ جمع کروائیں۔ اس مدت کے دوران معلومات چھپانا یا جھوٹا ڈیکلریشن دینا ‘مس کنڈکٹ’ تصور کیا جائے گا، جس پر سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ تاہم، حکومت نے ان ملازمین کو استثنیٰ دیا ہے جو پیدائشی یا نسبی طور پر کسی اور ملک کی شہریت رکھتے ہیں، ان پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوگی۔ یہ فیصلہ سرکاری ملازمت کے تقدس کو برقرار رکھنے اور افسر شاہی میں جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے ایک کلیدی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
صبا قمر کا متنازع کردار: ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کی زندگی پر ڈرامہ، عوامی بحث کا آغاز
”سرکاری ملازمین کے لیے دہری شہریت پر پابندی: غیر ملکی شہریت چھپانے پر برطرفی کا فیصلہ“ ایک تبصرہ