کھل اور بنولا پر ٹیکس ختم کیا جائے ،حکومت فرینڈلی بجٹ پیش کرے تاکہ جننگ کا سیکٹر دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکے، شام لال منگلانی

جننگ انڈسٹری اس وقت اپنے بقا کی جنگ لڑی رہی ہے ، حکومت ہوش کے ناخن لے

کراچی (بزنس رپورٹر) پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) نے وفاقی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کپاس کے کھل اور بنولا پر عائد ٹیکس فوری طور پر ختم نہ کیا گیا تو پہلے سے بحران کا شکار جننگ سیکٹر مزید تباہی کی طرف چلا جائے گا، مزید سینکڑوں فیکٹریاں بند ہونگی اور کپاس کی ملکی پیداوار کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔
پی سی جی اے کے چیئرمین شام لال منگلانی نے کہا ہے کہ کھل اور بنولا پر عائد ٹیکس نہ صرف جننگ انڈسٹری بلکہ دیہی معیشت، مویشی پال حضرات اور چھوٹے کسانوں کے لیے بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ریونیو بڑھانے کے نام پر ایسے شعبے پر ٹیکس عائد کیے بیٹھی ہے جہاں خریداروں کی اکثریت دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے نان فائلرز پر مشتمل ہے، جس کے باعث پورا سیکٹر دستاویزی معیشت سے نکل کر غیر دستاویزی شعبے کی جانب منتقل ہورہا ہے۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے اس پالیسی کے نتیجے میں حکومتی آمدنی کسی صورت نہیں بڑھ سکتی ہے اور پورا جننگ سیکٹر غیر دستاویزی ہو جائے گا کیونکہ اس سے پوری سپلائی چین متاثر ہورہی ہے۔
شام لال منگلانی نے کہا کہ کپاس کی سالانہ پیداوار 15 ملین بیلز سے کم ہو کر 5.8 ملین بیلز رہ گئی ہے یہی صورت رہی تو آئندہ سالوں میں 3 ملین بیلز سے بھی نیچے چلی جائے گی اور صرف چند سو فیکٹریاں رہ جائیں گی ۔کیونکہ اس وقت جننگ شعبہ اپنی بھی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کھل اور بنولا پر عائد ٹیکس واپس نہ لیا گیا تو مزید جننگ یونٹس بند ہونے، ہزاروں افراد کے روزگار سے محروم ہونے اور کپاس کی درآمدات میں اضافے کا خطرہ پیدا ہوجائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جننگ سیکٹر کپاس کی ویلیو چین کی بنیاد ہے، اس شعبے کو نظر انداز کرنے کے نتائج پوری معیشت پر پڑ رہیں ہیں
پی سی جی اے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ 2026-27 میں کھل اور بنولا پر عائد تمام ٹیکس فوری طور پر ختم کیے جائیں تاکہ جننگ سیکٹر کو بحران سے نکالا جا سکے، کپاس کی پیداوار بحال ہو اور دیہی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کپاس کی امپورٹ پر انحصار کرنے والی پالیسی ترک کرے.اور کاٹن جنرز کو سہولیات فراہم کرنے کے فرینڈلی بجٹ دے تاکہ وہ اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑے ہوسکیں ۔

اپنا تبصرہ لکھیں