عالمی کشیدگی اور حکومت کی ناکام پالیسیوں سے معاشی دباؤ میں اضافہ، بنیادی اشیاء غریب کی پہنچ سے دور: اسماعیل اگر

امریکا ایران کشیدگی سے زیادہ پاکستان متاثر؛ امپورٹڈ اور مقامی اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھنے پر تشویش، رات 12 بجے تک کاروبار کی اجازت خوش آئند، معیشت کی بحالی کے لیے پیٹرول، بجلی اور گیس سستی کرنے کا مطالبہ

رپورٹ: عبدالستار آزاد

کراچی: کراچی ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین اور ممتاز تاجر رہنما اسماعیل اگر نے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال اور مہنگائی کی لہر پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی حالات کے ساتھ ساتھ حکومت کی نااہلی اور ناکام معاشی پالیسیوں نے عوام اور تاجر برادری کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ ہر شعبہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کی زد میں ہے جس کے لیے ہنگامی حکومتی اقدامات ناگزیر ہیں۔

عالمی حالات سے زیادہ ملکی معاشی پالیسیاں ذمہ دار
تاجر رہنما اسماعیل اگر کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یقیناً اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کا سب سے زیادہ منفی اور گہرا اثر پاکستان کی معیشت پر مرتب ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کی بات کسی حد تک قابلِ فہم ہے، لیکن پاکستان میں امپورٹڈ اشیاء کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر تیار ہونے والی مصنوعات کی قیمتوں کا مسلسل بڑھنا سراسر حکومت کی معاشی گورننس کی ناکامی ہے۔

بنیادی اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے دور
اسماعیل اگر نے روزمرہ کی غذائی اجناس کی قیمتوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا:

”پاکستان میں چاول، چینی، آٹا اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اب ایک انتہائی تشویشناک صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ ملک میں ریکارڈ توڑ مہنگائی نے عوام کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں متوسط اور غریب طبقے کی قوتِ خرید (Buying Power) بری طرح تباہ ہو کر رہ گئی ہے۔“

کاروباری اوقات میں توسیع: معیشت کے لیے آکسیجن
دوسری جانب، تاجر رہنما نے حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے اوقات میں نرمی کرتے ہوئے مارکیٹیں رات 12 بجے تک کھلی رکھنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کاروباری سرگرمیوں میں واضح بہتری آرہی ہے اور شہر کے ہول سیل و ریٹیل بازاروں میں دوبارہ رونق بحال ہونا شروع ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کاروباری بندشوں کے دوران تاجروں اور صنعتکاروں کو ناقابلِ تلافی مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے، جبکہ عام آدمی مہنگائی اور بے روزگاری کے دوہرے دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ جب کاروبار بلا رکاوٹ چلتے ہیں تو صنعت، تجارت اور روزگار کے مواقع خود بخود بڑھتے ہیں، جس سے معیشت مستحکم ہوتی ہے اور مارکیٹ میں مسابقت کے باعث مہنگائی میں بھی کمی آتی ہے۔

حکومت سے تاجر برادری کے مطالبات
کراچی ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ معیشت کو پاؤں پر کھڑا کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری اور نمایاں کمی کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ تاجروں اور دکانداروں کو بلاوجہ ہراساں کرنے کے بجائے سازگار سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے تاجر برادری اپنا کلیدی کردار زیادہ مؤثر انداز میں ادا کر سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں