لاہور ہائی کورٹ کا بڑا ایکشن: پیٹرولیم کمپنیوں کے 8600 فیصد منافع پر عدالت کا حکومت اور اوگرا کو نوٹس!

لاہور (کورٹ رپورٹر) 3 جولائی 2026

لاہور ہائی کورٹ میں ملک کی تاریخ کے ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز کیس کی سماعت ہوئی ہے، جہاں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور آئل ریفائنریز کی جانب سے کمائے جانے والے ہوش رُبا اور غیر معمولی منافع کے خلاف ایک عام شہری نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ کے جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں قائم معزز دو رکنی بینچ نے ‘جوڈیشل ایکٹوازم پینل’ کی جانب سے دائر آئینی درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد وفاقی حکومت، اوگرا (OGRA) اور تمام متعلقہ فریقین کو باقاعدہ نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔

کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار نے عدالت کے سامنے ملک کی بڑی آئل کمپنیوں کے چونکا دینے والے مالیاتی اعداد و شمار پیش کیے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایک طرف غریب عوام مہنگے ترین داموں پیٹرول خرید کر نانِ شبینہ کو محتاج ہو رہے ہیں، تو دوسری طرف یہی آئل کمپنیاں اور ریفائنریز ریکارڈ توڑ منافع سمیٹ رہی ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ملک کی سب سے بڑی سرکاری کمپنی پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کا منافع 149 فیصد اور اٹک پیٹرولیم کا منافع 92 فیصد بڑھ چکا ہے۔ سب سے زیادہ ہلا دینے والا انکشاف پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (PRL) کے بارے میں کیا گیا، جس کا منافع 293 ملین روپے سے اچھل کر 25.49 ارب روپے تک جا پہنچا ہے، جو کہ 8600 فیصد سے بھی زائد کا غیر معمولی اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ نیشنل ریفائنری بھی اربوں روپے کے خسارے سے نکل کر اچانک 7.30 ارب روپے کے خالص منافع میں آ گئی ہے، جبکہ پی ایس او نے اس اندھی کمائی کا دفاع کرتے ہوئے اسے علاقائی جنگی صورتحال کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

درخواست گزار نے معزز جج صاحبان کے سامنے سخت مؤقف اپنایا کہ عالمی مارکیٹ اور ملکی حالات کے باعث پیدا ہونے والی مہنگائی کا سارا بوجھ اکیلے غریب صارفین نے برداشت کیا، جبکہ اس کا اصل مالی فائدہ حکومت اور ان نجی کمپنیوں کی جیبوں میں گیا۔ رپورٹ کے مطابق، حکومت کو صرف پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) کی مد میں عوام کی جیبوں سے تقریباً 1.7 ٹریلین (17 سو ارب) روپے کی خطیر آمدن متوقع ہے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس وقت حکومت، طاقتور آئل مافیا اور پسے ہوئے صارفین کے درمیان ایک انتہائی ظالمانہ اور غیر منصفانہ مالی نظام قائم ہو چکا ہے جس کا فوری خاتمہ ضروری ہے۔

سماعت کے اختتام پر عدالت سے استدعا کی گئی کہ تمام آئل کمپنیوں اور ریفائنریز کا گزشتہ سالوں کا مکمل آڈٹ ریکارڈ طلب کیا جائے اور اس غیر معمولی منافع کی عدالتی نگرانی میں اعلیٰ سطح کی تحقیقات کرائی جائیں۔ مزید یہ کہ عوام کو براہِ راست ریلیف دیے بغیر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیوی (PDL) میں مزید اضافے کو فوری روکا جائے۔ درخواست گزار نے عدالت سے یہ تاریخی مطالبہ بھی کیا کہ برطانیہ، یورپی ممالک اور پڑوسی ملک بھارت کی طرز پر پاکستان میں بھی پیٹرولیم سیکٹر پر ‘ونڈ فال پرافٹ ریگولیشن’ (Windfall Profit Regulation – یعنی ہنگامی صورتحال میں ہونے والے غیر متوقع منافع پر بھاری ٹیکس) نافذ کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں تاکہ پبلک انٹرسٹ کا تحفظ ہو سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں