کراچی (ویب ڈیسک) 1 جولائی 2026
لاہور کے علاقے کاہنہ نو میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے قیامت خیز سانحے کے دوسرے روز بھی پورا علاقہ شدید غم و اندوہ کی تصویر بنا ہوا ہے، جہاں ہر طرف فضا سوگوار اور ہر آنکھ اشکبار ہے۔ خستہ حال عمارت گرنے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے 14 معصوم بچوں میں سے مزید سات بچوں اور بچیوں کی نمازِ جنازہ آج ادا کی جائے گی، جس کے لیے جنازہ گاہ میں رقت آمیز مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اس سے قبل گزشتہ رات گئے پہلی شفٹ میں سات معصوم بچوں اور بچیوں کی نمازِ جنازہ انتہائی سسکیاں لیتے ہوئے شہریوں کی موجودگی میں ادا کرنے کے بعد انہیں مقامی قبرستان میں آشکبار آنکھوں کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا تھا، جبکہ آج ہونے والے جنازوں میں شرکت کے لیے بھی شہر بھر سے لوگوں کی بڑی تعداد پہنچ رہی ہے۔

اس ہولناک اور المناک حادثے کے گہرے صدمے کے باعث کاہنہ اور اس کے گردونواح کے تمام علاقوں میں تاجر برادری کی جانب سے دکانیں، کاروباری مراکز اور مقامی مارکیٹیں مکمل طور پر بند رکھی گئی ہیں اور ہر طرف گہرے سوگ کی کیفیت نمایاں ہے۔ نمازِ جنازہ کے حساس اور بڑے اجتماعات کو مدنظر رکھتے ہوئے لاہور پولیس کی جانب سے سکیورٹی کے انتہائی سخت اور فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے رات بھر سے پولیس کی بھاری نفری متاثرہ گلیوں اور جنازہ گاہ کے اطراف تعینات ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ بھی مسلسل جائے وقوعہ پر متحرک دکھائی دے رہی ہے۔

ضلعی انتظامیہ اور سٹی گورنمنٹ کی جانب سے متاثرہ پسماندہ علاقے میں ہنگامی طور پر عارضی روشنیوں، صاف اور ٹھنڈے پینے کے پانی کی سبیلوں، صفائی ستھرائی اور دیگر بنیادی ضروری سہولیات کا خصوصی و ہنگامی انتظام کیا گیا ہے۔ میتوں کی باعزت منتقلی کے لیے ‘شہرِ خموشاں’ کی خصوصی ایمبولینس گاڑیاں بھی موقع پر ہائی الرٹ کھڑی ہیں، جبکہ ‘ستھرا پنجاب’ کی خصوصی ٹیمیں علاقے میں صفائی کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

دوسری جانب لاہور جنرل اسپتال، چلڈرن اسپتال اور تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال کے آئی سی یو اور ایمرجنسی وارڈز میں زخمی خاتون ٹیچر انیلہ اور دیگر کم سن بچوں کا علاج معالجہ تاحال جاری ہے، جہاں وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی سخت اور براہِ راست ہدایات پر تمام زخمیوں کو مفت اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف لاہور پولیس نے خونی غفلت کے اس واقعے کی تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا ہے۔

پولیس نے ہسپتال میں زیرِ علاج زخمی مالک مکان، ٹیوشن پڑھانے والی خاتون ٹیچر کے شوہر ریحان، اس کے سگے بھائی فیضان اور حادثے کے وقت چھت پر مٹی ڈالنے والے مزدور عمیر کو باقاعدہ اپنی تحویل میں لے کر مختلف پہلوؤں سے تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی ہدایت پر شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کی جا رہی ہے تاکہ غفلت کے مرتکب تمام خونی کرداروں کو کڑی سزا دلوائی جا سکے۔

