لاہور میں قیامت خیز سانحہ: ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 معصوم بچے جاں بحق، کئی زخمی، ملبہ ہاتھوں سے ہٹانے کا ریسکیو آپریشن جاری!

کراچی (ویب ڈیسک) 30 جون 2026

صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے کاہنہ نو میں ایک انتہائی دلخراش اور لرزہ خیز افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک نجی گھر میں قائم ٹیوشن سینٹر کی خستہ حال چھت اچانک دھماکے سے گرنے کے نتیجے میں 14 معصوم بچے ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئے ہیں۔ بستی عید گاہ میں پیش آنے والے اس ہولناک حادثے کے وقت کمرے میں 35 کے قریب بچے موجود تھے جو روزمرہ کی طرح انیلہ ریحان نامی خاتون ٹیچر سے پڑھنے آئے تھے۔ ٹی آر گارڈر کی بنی اس سنگل اسٹوری عمارت کی چھت اس وقت اچانک زمین بوس ہو گئی جب اس کے اوپر مزدور مٹی ڈالنے کا کام کر رہے تھے۔ سنگدلانہ غفلت کے باعث ہونے والے اس حادثے نے پورے علاقے میں قیامت کا سماں برپا کر دیا ہے اور ہر گھر سے چیخ و پکار کی آوازیں آ رہی ہیں۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کی بھاری نفری امدادی سامان کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور مقامی محلے داروں کی مدد سے ہنگامی بنیادوں پر ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق اب تک ملبے سے 20 بچوں کو نکالا جا چکا ہے جن میں سے 14 معصوم بچے دم توڑ چکے تھے جبکہ خاتون ٹیچر سمیت 8 بچے شدید زخمی ہیں جنہیں فوری طور پر ایم ایس ٹی ایچ کیو اسپتال کاہنہ منتقل کیا گیا ہے۔ امدادی کارکنوں نے بتایا کہ ملبے سے نکالے گئے بچوں کے ناک اور منہ میں مٹی بھری ہوئی تھی جس کے باعث ان کا دم گھٹ گیا تھا، جبکہ مزید 10 سے 15 بچوں کے ملبے میں دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ پھنسے ہوئے بچوں کی زندگی کو محفوظ رکھنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں بھاری لائف سیونگ مشینری کے بجائے ہاتھوں سے مٹی ہٹانے کو ترجیح دے رہی ہیں۔

اس ہولناک غفلت پر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے میڈیا کو بتایا کہ حادثے کے وقت چھت پر مزدور کام کر رہے تھے اور خستہ حال بلڈنگ پر مٹی کا اضافی بوجھ ڈالنے کی وجہ سے یہ لرزہ خیز واقعہ پیش آیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مالک مکان اور مزدوروں سمیت 5 ذمہ دار افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ جاں بحق ہونے والے تمام بچے اسی محلے کے رہائشی تھے۔ ہلاک ہونے والے معصوم بچوں میں 4 سالہ ارتضیٰ، 6 سالہ اروج اور رمشا، 7 سالہ تشبیہ، دعا اور عبداللہ، 8 سالہ سلمان، مہنور، فواد، ارحم اور عبداللہ، 9 سالہ اروج، 11 سالہ ایمان فاطمہ اور 12 سالہ خدیجہ شامل ہیں جن کی میتیں گھروں میں پہنچنے پر صفِ ماتم بچھ گئی ہے۔

دوسری جانب صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس المناک واقعے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔ صدر اور وزیراعظم نے جاں بحق بچوں کے لواحقین سے دلی تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بطور ماں وہ والدین کی اس ناقابلِ تلافی تکلیف کا بخوبی اندازہ لگا سکتی ہیں اور اس ہولناک سانحے کے ذمہ داران کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ انہوں نے واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے صوبے بھر کے تمام تعلیمی اداروں اور نجی عمارات کے حفاظتی معیار کا جامع آڈٹ کرنے کی سخت ہدایت جاری کر دی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں