اسلام آباد (ویب ڈیسک) 4 جون 2026
وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) نے “سولر شفٹ روکنے کے لیے نئے پاور ٹیرف” اور فکسڈ چارجز میں اضافے سے متعلق گردش کرنے والی تمام رپورٹس کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ وزارت کی جانب سے جاری کردہ وضاحتی بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت کا ایسا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں جس کے تحت سولر توانائی استعمال کرنے والی صنعتوں کو سزا دی جائے یا ان پر کوئی اضافی مالی بوجھ ڈالا جائے۔ پاور ڈویژن نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو صنعتی صارفین کے لیے کسی قسم کا جرماناتی ٹیرف نظام پیش کیا ہے۔
شرجیل میمن اور محسن نقوی کی ملاقات، وفاق اور سندھ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
وزارت کے مطابق، زیرِ غور ٹیرف نظام دراصل ایک ‘اختیاری متبادل’ ہے، جس کا مقصد صنعتی صارفین کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس تجویز میں نسبتاً زیادہ فکسڈ چارجز کے ساتھ مختلف اوقات میں بجلی کے نرخ کم رکھنے کی سہولت دی گئی ہے، تاکہ چوبیس گھنٹے کام کرنے والی صنعتیں اپنی ضروریات اور بجلی کے استعمال کے انداز کے مطابق بہتر آپشن کا انتخاب کر سکیں۔ پاور ڈویژن نے اس بات پر سختی سے زور دیا ہے کہ یہ نظام کسی بھی صارف پر زبردستی لاگو نہیں کیا جائے گا اور صنعتی صارفین کو مکمل آزادی حاصل ہوگی کہ وہ اپنے موجودہ ٹیرف نظام پر برقرار رہیں یا اس نئے متبادل آپشن کو اپنائیں۔
پاور ڈویژن کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ متبادل ٹیرف خاص طور پر اُن صنعتوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے جن کی بجلی کی کھپت مستقل رہتی ہے، کیونکہ اس سے ان کی بجلی کی لاگت زیادہ مستحکم اور قابلِ پیشگوئی بن جائے گی۔ وزارتِ توانائی نے عوامی حلقوں، میڈیا اور صنعتی اداروں پر زور دیا ہے کہ توانائی کے شعبے سے متعلق معلومات کو حقائق اور تکنیکی بنیادوں پر دیکھا جائے تاکہ کسی بھی قسم کے غیر ضروری ابہام یا غلط فہمیوں سے بچا جا سکے۔ حکومتی بیان کا مقصد اس تاثر کو زائل کرنا ہے کہ ملک میں سولر توانائی کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔