لاہور (ویب ڈیسک) 29 جون 2026پاکستانی فری لانسرز نے آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز کے میدان میں ملکی تاریخ کا ایک نیا اور عظیم الشان سنگ میل عبور کرتے ہوئے عالمی مارکیٹ کو حیران کر دیا ہے۔ رواں مالی سال کے دوران صرف 11 ماہ کے قلیل عرصے میں پاکستانی نوجوانوں نے فری لانسنگ کے ذریعے 1 ارب 60 کروڑ ڈالر ($1.6\text{ Billion}$) سے زائد کی ریکارڈ آمدنی حاصل کر کے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کمایا ہے۔ یہ آئی ٹی اور اس سے منسلک دیگر ڈیجیٹل شعبہ جات میں اب تک کی کسی بھی ایک سال کی بلند ترین اور تاریخی آمدنی شمار کی جا رہی ہے۔فری لانسرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (PAFLA) کے چیئرمین ابراہیم امین نے اس تاریخی کامیابی پر میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فری لانسرز اس وقت ملکی معیشت کو سہارا دینے اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں صفِ اول کے سپاہی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے حیران کن اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ سال 2022 سے 2026 کے دوران پاکستان میں فری لانسنگ کے شعبے نے غیر معمولی ترقی کی ہے، جہاں محض چار سالوں کے اندر یہ آمدنی 40 کروڑ ڈالر سے ریکارڈ رفتار کے ساتھ بڑھ کر 1.6 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے۔چیئرمین ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ اس کامیابی کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ پاکستان کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں نے محدود وسائل، بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور سست انٹرنیٹ جیسی سنگین مشکلات کے باوجود ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے ذاتی کوششوں سے آن لائن کام سیکھا، جدید عالمی رجحانات پر تحقیق کی اور اپنی تکنیکی صلاحیتوں (Skills) میں اضافہ کر کے انٹرنیشنل مارکیٹ میں پاؤں جمائے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ اگر ان باصلاحیت نوجوانوں کو مناسب سہولیات، تیز ترین انٹرنیٹ اور بین الاقوامی ادائیگیوں کے محفوظ چینلز فراہم کیے جائیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان اس شعبے سے سالانہ 10 ارب ڈالر کما سکے گا۔اکنامک ماہرین کے مطابق، پاکستان کی 60% فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ملکی معیشت کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔ اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر ان نوجوانوں کی جدید آئی ٹی کورسز، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور فری لانسنگ کے شعبوں میں درست رہنمائی اور تربیت کا اہتمام کریں تو اس سے نہ صرف ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہوگا بلکہ ملکی معیشت کو بھی ہمیشہ کے لیے مضبوط اور مستحکم بنیادیں فراہم کی جا سکیں گی۔
