لیاری میں فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کا دعویٰ؛ نبیل گبول نے فیفا صدر کو خط لکھ دیا، سجاد سومرو کا کرارا طنز!

کراچی (اسپورٹس ڈیسک) 23 جون 2026

پاکستان فٹبال ٹیم اگرچہ فیفا کی عالمی رینکنگ میں انتہائی نچلے درجے پر موجود ہے اور تاریخ میں کبھی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی بھی نہیں کر سکی، تاہم فٹبال کا عالمی کپ یہاں کے کروڑوں مداحوں کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ پاکستان میں فٹبال کے اسی بے پناہ اور والہانہ جنون کا سب سے بڑا مرکز شہرِ قائد کا تاریخی علاقہ لیاری ہے، جسے فٹبال کی دیوانگی کے باعث ’منی برازیل‘ بھی کہا جاتا ہے۔ لیاری کی گلیوں اور چوکوں پر فیفا ورلڈ کپ کے دوران بڑی اسکرینیں لگا کر بالخصوص برازیل اور ارجنٹینا جیسی روایتی حریف ٹیموں کے میچز کو کسی میلے کی طرح دیکھنے کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔

فٹبال کے اسی عالمی جنون کو بنیاد بنا کر لیاری سے منتخب ہونے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور رکن سندھ اسمبلی نبیل گبول نے فٹبال کی عالمی تنظیم (فیفا) کے صدر کو ایک باقاعدہ خط لکھ دیا ہے۔ میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نبیل گبول نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے فیفا صدر کو دعوت دی ہے کہ وہ خود آکر دیکھیں کہ لیاری کے اسٹیڈیمز بین الاقوامی معیار کے مطابق ہیں یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیاری میں پیپلز اسٹیڈیم اور لیاری انٹرنیشنل اسٹیڈیم جیسے دو بہترین گراؤنڈز موجود ہیں جہاں عالمی ٹیمیں باآسانی کھیل سکتی ہیں، اور اگلے فیفا ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی بھی ضرور نظر آئے گی۔

نبیل گبول کا یہ جارحانہ موقف دراصل پیپلز پارٹی کے ہی ایک اور رکن سندھ اسمبلی سجاد سومرو کی جانب سے کیے گئے شدید طنز کے جواب میں سامنے آیا ہے۔ یاد رہے کہ چند روز قبل سندھ اسمبلی کے اجلاس میں نبیل گبول نے جب پہلی بار لیاری میں فیفا ورلڈ کپ کے میچز کروانے کا دعویٰ کیا تھا، تو سجاد سومرو نے اسمبلی فلور پر طنزیہ ردعمل دیتے ہوئے لیاری کی بنیادی سہولیات کی ابتر حالت پر سنگین سوالات اٹھا دیے تھے۔ سجاد سومرو کا مضحکہ خیز انداز میں پوچھنا تھا کہ اگر ورلڈ کپ کا میچ ہو، اسٹار فٹبالر میسی واش روم جائیں اور وہاں پانی نہ ہوا تو اس کا جواب کون دے گا؟

رکن اسمبلی سجاد سومرو نے لیاری کی خستہ حال سڑکوں اور پینے کے پانی کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے تیکھے سوالات داغے تھے کہ کیا آپ رونالڈو اور نیمار جیسے عالمی سپر اسٹارز کو بھی وہی آلودہ پانی پلائیں گے جو لیاری کی غریب عوام پینے پر مجبور ہے؟ اور کیا آپ ان انٹرنیشنل ٹیموں کو انہی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور کھڈوں سے گزار کر اسٹیڈیم لے جائیں گے جن سے روزانہ لیاری کے عوام گزرتے ہیں؟ سجاد سومرو کے اس کھلے طنز اور لیاری کے بنیادی مسائل کی نشاندہی کے بعد اب نبیل گبول نے فیفا کو خط لکھ کر اس بحث کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں