اسپورٹس ڈیسک (ویب ڈیسک) 23 جون 2026ارجنٹائن کے لیجنڈری سپر اسٹار اور کپتان لیونل میسی نے فٹبال کی دنیا میں ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے اور اپنا نام تاریخ کے سنہری حروف میں درج کرا دیا ہے۔ عالمی کپ کے ابتدائی دو میچز میں ہی غیر معمولی اور جادوئی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میسی نے فٹبال کی تاریخ کے کئی بڑے اور پرانے ریکارڈز پاش پاش کر دیے ہیں۔ اس شاندار کامیابی کے بعد ارجنٹائن سمیت دنیا بھر میں ان کے مداح جشن منا رہے ہیں کیونکہ انہوں نے ایک ہی میچ کے دوران متعدد عالمی اعزازات اپنے نام کر لیے ہیں۔میسو نے اس تاریخی میچ کے بعد فٹبال ورلڈکپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ مجموعی طور پر 18 گول کرنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بننے کا منفرد اعزاز حاصل کر لیا ہے۔
All the records broken by Lionel Messi today:
Most FIFA World Cup finals goals by a football (soccer) player – 18
Most FIFA World Cup matches played in by an individual – 28
Most matches won by a player at the football (soccer) FIFA World Cup – 18
Most minutes played in the…
— Guinness World Records (@GWR) June 22, 2026
صرف یہی نہیں بلکہ وہ ورلڈکپ کی تاریخ میں اب تک سب سے زیادہ 28 میچز کھیلنے والے فٹبالر بھی بن گئے ہیں۔ ارجنٹائنی کپتان نے اپنی شاندار قیادت اور کھیل کی بدولت عالمی کپ کے میچز میں سب سے زیادہ 18 فتوحات حاصل کرنے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ واقعی ایک ناقابلِ شکست کھلاڑی ہیں۔ان تمام ریکارڈز کے ساتھ ساتھ میسی نے ایک اور حیران کن اور منفرد اعزاز اپنے نام کیا ہے۔ وہ اب فیفا عالمی کپ کی طویل تاریخ میں سب سے زیادہ وقت یعنی دو ہزار 489 منٹ ($2489$) میدان میں گزارنے والے دنیا کے واحد فٹبالر بن چکے ہیں، جو ان کی کھیل سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 39 سال کی عمر کے قریب پہنچنے کے باوجود لیونل میسی کی یہ شاندار فارم، ناقابلِ یقین پھرتی اور جسمانی فٹنس نے دنیا بھر کے بڑے بڑے فٹبال ماہرین اور شائقینِ کھیل کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔میسی کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر دکھائی جانے والی اس مسلسل اور جادوئی کارکردگی نے کھیل کے حلقوں میں ایک بار پھر اس دیرینہ بحث کو چھیڑ دیا ہے کہ انہیں فٹبال کی پوری تاریخ کا عظیم ترین کھلاڑی (GOAT – Greatest of All Time) قرار دے دیا جائے۔ اسپورٹس تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ میسی نے جس عمر میں یہ ریکارڈز بنائے ہیں، وہاں تک پہنچنا کسی بھی عام کھلاڑی کے لیے ایک خواب ہی ہو سکتا ہے، اور وہ اب بھی رکنے کا نام نہیں لے رہے۔
