پاشا (P@SHA) کا بجٹ 27-2026 میں ٹیکس اصلاحات کا مطالبہ: ریموٹ ورکرز اور آئی ٹی کمپنیوں کے درمیان مساوی میدانِ عمل کا قیام

پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کی جانب سے سیکشن 154A میں ترمیم کی تجویز؛ کیٹیگری اے اور بی کے تحت ٹیکس کا نیا نظام، مقامی آئی ٹی کمپنیوں کو برین ڈرین سے بچانے کا مطالبہ

بزنس رپورٹر | عبدالستار آزاد

پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) نے وفاقی بجٹ 2026-27 کے لیے اپنی جامع پالیسی سفارشات پیش کر دی ہیں، جس کا مرکزی نقطہ آئی ٹی سیکٹر میں ٹیکس کے ڈھانچے میں موجود تضادات کو ختم کرنا ہے۔ پاشا نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ریموٹ ورکرز کے لیے ٹیکس کے موجودہ “لوپ ہول” (خامی) کو فوری طور پر دور کیا جائے جو مقامی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے غیر منصفانہ مسابقت اور ٹیلنٹ کے اخراج کا باعث بن رہا ہے۔

ٹیکس کا موجودہ تضاد اور مقامی کمپنیوں کو درپیش بحران
مالی سال 2025 میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 3.8 ارب ڈالر جبکہ فری لانس شعبے نے 779 ملین ڈالر کا حصہ ڈالا۔ اس وقت انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 154A کے تحت تمام آئی ٹی برآمدات پر 0.25 فیصد فائنل ٹیکس کی شرح لاگو ہے۔ تاہم، پاشا کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ کل وقتی (فل ٹائم) ملازمت کرنے والے ریموٹ ورکرز، جو دراصل ملازم ہیں، خود کو “فری لانسرز” ظاہر کر کے اس 0.25 فیصد ٹیکس کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

پاشا کے چیئرمین سجاد سید نے وضاحت کی کہ یہ “ٹیکس آربیٹریج” مقامی آئی ٹی کمپنیوں کے ملازمین اور ریموٹ ورکرز کے درمیان 18 سے 31 فیصد تک کا بڑا ٹیکس فرق پیدا کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک ریموٹ ورکر 22 سے 44 فیصد تک زیادہ خالص تنخواہ گھر لے جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، 5 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر ریموٹ ورکر کو مقامی ملازم کے مقابلے میں ماہانہ 1 لاکھ 5 ہزار روپے کا اضافی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ یہ فرق مقامی کمپنیوں کو غیر مسابقتی بنا رہا ہے اور سینئر ٹیلنٹ کے مسلسل اخراج (برین ڈرین) کا باعث بن رہا ہے۔

پاشا کی اصلاحاتی تجویز: دو الگ کیٹیگریز کا تعارف
اس بحران کے حل کے لیے پاشا نے سیکشن 154A میں ترمیم کرتے ہوئے دو الگ کیٹیگریز متعارف کرانے کی سفارش کی ہے:

کیٹیگری A (آزاد آئی ٹی سروس ایکسپورٹرز): ان کے لیے 0.25 فیصد ٹیکس کی موجودہ شرح برقرار رہے گی۔ اس کے لیے پیشہ ور افراد کو پانچ میں سے کم از کم تین شرائط پوری کرنی ہوں گی، جن میں تین سے زائد کلائنٹس، پروجیکٹ بیسڈ کام، اور کسی مخصوص کمپنی کے ساتھ خصوصی معاہدے سے گریز شامل ہے۔

کیٹیگری B (غیر ملکی اداروں کے ریموٹ ملازمین): ان پر ان کی سالانہ آمدنی کے مطابق 5 سے 20 فیصد تک گریجویٹڈ (بتدریج) ٹیکس لاگو ہوگا۔ اس کیٹیگری کا اطلاق ان افراد پر ہوگا جو اپنی 80 فیصد یا اس سے زائد آمدنی کسی ایک غیر ملکی ادارے سے حاصل کر رہے ہوں اور مقررہ ماہانہ معاوضہ وصول کرتے ہوں۔

عالمی معیار اور منصفانہ تبدیلی
پاشا نے اس تبدیلی کے عمل کو آسان بنانے کے لیے چھ ماہ کی ‘ایمنسٹی ونڈو’ کی تجویز بھی دی ہے تاکہ ورکرز کسی جرمانے کے بغیر اپنی درست درجہ بندی کروا سکیں۔ پاشا کے مطابق یہ اقدام برطانیہ کے IR35، امریکہ کے W-2 بمقابلہ 1099، اور جرمنی کے Scheinselbständigkeit قوانین جیسے عالمی فریم ورکس کے مطابق ہے۔ پاشا نے ایف بی آر (FBR) کو پیشکش کی ہے کہ وہ اس مساوی اور منصفانہ ٹیکس نظام کے نفاذ کے لیے قواعد و ضوابط کا مسودہ تیار کرنے میں مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں