لاہور (ویب ڈیسک) 11 جون 2026
حکومتِ پنجاب نے صوبے کی معاشی صورتحال کو مستحکم کرنے اور مالی وسائل کو خود کفیل بنانے کی غرض سے ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبے بھر میں موجود سرکاری رہائشی، کمرشل اور غیر استعمال شدہ (انڈر یوٹیلائزڈ) جائیدادوں اور قیمتی اراضی کو نفع بخش منصوبوں میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ آئندہ مالی سال کے دوران 500 ارب روپے کا بھاری ریونیو ہدف حاصل کیا جا سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے محکمہ اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ نے صوبے کی 9 اہم ڈویلپمنٹ اتھارٹیز سمیت 12 مختلف اداروں سے ان کی زیرِ انتظام تمام سرکاری اراضی اور پراپرٹیز کی مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں۔
اثاثوں کی کمرشلائزیشن کا جامع پلان
حکومتِ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں تمام متعلقہ اداروں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حکومتی پراپرٹیز کی موجودہ حیثیت، ان کی مارکیٹ ویلیو، اور ان کو لیز یا فروخت کرنے کی صلاحیت سے متعلق مکمل ریکارڈ فوری طور پر پیش کریں۔ اس منصوبے کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ ایسی زمینیں جو طویل عرصے سے ویران پڑی ہیں یا جن کا درست استعمال نہیں ہو رہا، انہیں جدید کمرشل مراکز، شاپنگ مالز یا بزنس ہبز میں تبدیل کیا جائے۔
حکومت نے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان سڑکوں، کوریڈورز اور تجارتی اہمیت کے حامل علاقوں کی خصوصی نشاندہی کریں جہاں کمرشل سرگرمیوں کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ان تمام اثاثوں کو ایک باقاعدہ اور شفاف میکنائزم کے تحت کمرشلائز کیا جائے گا تاکہ حکومتی وسائل سے زیادہ سے زیادہ آمدن حاصل ہو سکے۔ یہ اقدام نہ صرف سرکاری خزانے میں اضافے کا باعث بنے گا بلکہ پرائیویٹ سیکٹر کے لیے بھی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
اداروں کے لیے سخت ٹاسک اور ٹائم لائن
حکومت نے تمام 12 اداروں کو یہ سخت ٹاسک دیا ہے کہ وہ اپنی ملکیتی زمینوں کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کا درست تخمینہ لگائیں اور انہیں کمرشل استعمال میں لانے کے لیے قابلِ عمل ایکشن پلان تیار کریں۔ ہر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو اپنے مقرر کردہ ریونیو ہدف کے حصول کے لیے ایک واضح ٹائم لائن دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، حکومتی ٹیمیں اس پورے عمل کی بذاتِ خود نگرانی کریں گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا غیر قانونی قبضوں کی گنجائش نہ رہے۔
پنجاب حکومت کا ماننا ہے کہ سرکاری اثاثوں کو صرف انتظامی دفاتر کے لیے استعمال کرنا معاشی لحاظ سے خسارے کا سودا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان اثاثوں کو ‘اثاثہ جات برائے ترقی’ کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اس پالیسی کے نفاذ سے حکومتی اخراجات میں کمی آئے گی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے درکار فنڈز کی دستیابی آسان ہو جائے گی۔
معاشی استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت
ماہرینِ معاشیات کے مطابق، پنجاب حکومت کا یہ فیصلہ دیر سے لیا گیا مگر درست سمت میں قدم ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران سرکاری اراضی کا بڑا حصہ غیر فعال رہا جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ اب جب کہ حکومت نے 500 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے، اس سے صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو نئی زندگی ملے گی۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ ہدف صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس پر عمل درآمد کے لیے ایک خصوصی سیل بھی قائم کیا جا رہا ہے جو تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ رکھ کر اس ہدف کے حصول کو یقینی بنائے گا۔آنے والے دنوں میں پنجاب کے مختلف اضلاع میں موجود سرکاری دفاتر اور خالی اراضی کی کایا پلٹنے کی توقع ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف لاہور بلکہ ملتان، فیصل آباد، راولپنڈی اور گوجرانوالہ سمیت دیگر بڑے شہروں میں نئی تجارتی راہیں کھلیں گی، جو صوبے کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوں گی۔