پاکستانی کرکٹر عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق نے حالیہ ویڈیو بیان میں اپنی ازدواجی زندگی، طلاق اور علیحدگی سے متعلق متعدد دعوے اور الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔
ثانیہ اشفاق کے مطابق ان کی اور عماد وسیم کی ملاقات آن لائن ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی دنوں میں عماد انہیں نہایت محبت کرنے والے، خیال رکھنے والے اور نرم مزاج انسان لگے، جس کے بعد دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا۔ شادی کے بعد وہ اپنی فیملی اور دوستوں کو چھوڑ کر برطانیہ سے پاکستان منتقل ہوئیں تاکہ نئی زندگی کا آغاز کر سکیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ شادی کے کچھ عرصے بعد ان کے تعلقات میں مسائل پیدا ہونا شروع ہوئے، جن میں عماد وسیم کے اہلِ خانہ کے کردار نے اہم حصہ ڈالا۔ ثانیہ کے مطابق جب بھی عماد اپنے خاندان کے ساتھ ہوتے تو ان کا رویہ مکمل طور پر بدل جاتا اور وہ ہر معاملے میں اپنے گھر والوں کی بات مانتے تھے، چاہے غلطی کسی کی بھی ہو۔
ثانیہ نے بتایا کہ اپنے پہلے بیٹے کی پیدائش کی خبر سن کر عماد بہت خوش ہوئے تھے اور وہ بچوں کے حوالے سے پرجوش منصوبے بنایا کرتے تھے۔ تاہم بعد ازاں دوسری مرتبہ حمل کے دوران حالات خراب ہونا شروع ہوئے۔ ان کے مطابق وہ کچھ عرصے تک اپنی ساس کو حمل کی خبر نہیں دینا چاہتی تھیں کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ماضی میں ان پر حمل ختم کروانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا، جس کے باعث وہ خوفزدہ تھیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جب عماد وسیم کو اس بات کا علم ہوا تو معاملہ تنازع میں تبدیل ہو گیا۔ ان کے بقول بعد ازاں عماد کی والدہ نے انہیں طلاق دینے اور ان کے گھر کا سامان واپس لینے کا مشورہ دیا، جس کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔ ثانیہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس دوران عماد کے بڑے بھائی نے انہیں دھمکیاں دیں، جبکہ وہ خود اس وقت حاملہ تھیں اور پاکستان میں تنہا تھیں کیونکہ ان کا خاندان برطانیہ میں مقیم تھا۔
ثانیہ اشفاق کے مطابق بعد میں عماد وسیم نے انہیں یقین دلایا کہ وہ تمام مسائل سے دور نئی زندگی شروع کرنے کے لیے برطانیہ منتقل ہونا چاہتے ہیں، جہاں وہ اپنے بچوں کے ساتھ سکون سے رہ سکیں گے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ پہنچنے کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عماد انہیں ان کی والدہ کے گھر چھوڑ کر چلے گئے، قانونی کارروائی شروع کی، پاسپورٹ اپنے قبضے میں لے لیے اور علیحدگی کا فیصلہ سنا دیا۔
ثانیہ کے مطابق انہوں نے اپنی شادی کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن انہیں مسلسل قانونی نوٹسز موصول ہوتے رہے اور بالآخر طلاق کے کاغذات بھی بھیج دیے گئے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعد ازاں عماد وسیم نے اسی خاتون سے شادی کر لی جن کے بارے میں وہ پہلے صرف ایک مداح ہونے کا کہتے تھے۔
اپنے بیان میں ثانیہ اشفاق نے حمل ضائع ہونے کے ایک واقعے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں حمل ختم کروانے کے لیے ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا، جہاں وہ بچے کو دنیا میں لانا چاہتی تھیں، تاہم ان کے مطابق بعد میں طبی عمل کے ذریعے ان کا حمل ختم کر دیا گیا۔ انہوں نے اس تجربے کو اپنی زندگی کا سب سے تکلیف دہ مرحلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس واقعے کو کبھی فراموش نہیں کر سکتیں۔
ثانیہ اشفاق نے اپنے تین بچوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت ان کی پرورش خود کر رہی ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ان کے بچے مستقبل میں کامیاب انسان بنیں۔
دوسری جانب، اس معاملے پر عماد وسیم کی جانب سے اس بیان کے جواب میں کوئی تفصیلی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس لیے ثانیہ اشفاق کے بیان میں شامل تمام الزامات ان کا مؤقف ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ معاملہ سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے اور صارفین دونوں فریقوں کے مؤقف سامنے آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
