بچوں کی کسٹڈی کا معاملہ: سندھ ہائیکورٹ کا پاکستانی نژاد امریکی خاتون کو نوٹس جاری

سندھ ہائیکورٹ میں دو پاکستانی نژاد امریکی سابق میاں بیوی کے درمیان بچوں کی حوالگی سے متعلق ایک اہم اور پیچیدہ کیس کی سماعت ہوئی ہے۔ عدالتِ عالیہ نے بچوں کے والد عشر علی کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے پاکستان میں مقیم بچوں کی والدہ فضا فرید کو باقاعدہ نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ کسٹڈی کے اس تنازع کا شکار ہونے والے بچوں میں 7 سالہ انایا اور 5 سالہ علی شامل ہیں، جنہیں مبینہ طور پر امریکی عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان لایا گیا ہے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار عشر علی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ امریکہ میں دونوں میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کے بعد بچوں کی کسٹڈی کا ایک قانونی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت روزانہ شام 4 سے رات 7 بجے تک بچے والد کے پاس وقت گزارتے تھے۔ تاہم، بچوں کی والدہ فضا فرید نے عدالتی فیصلے کو پسِ پشت ڈال کر بغیر کسی اطلاع کے بچوں کو ساتھ لیا اور پاکستان فرار ہو گئیں۔ والد کو امریکی سفارت خانے (ایمبیسی) کے ذریعے معلوم ہوا کہ ان کے بچے اس وقت پاکستان منتقل کیے جا چکے ہیں۔

کیس میں اس وقت ایک نیا موڑ آیا جب وکیل نے انکشاف کیا کہ خاتون فضا فرید کے خلاف امریکہ میں ملین ڈالرز کے فراڈ کی سنگین تحقیقات چل رہی ہیں۔ خاتون پر کورونا وبا کے دوران ہیلتھ کیئر آئٹمز کی برآمدگی میں بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کا الزام ہے، اور اسی قانونی گرفت سے بچنے کے لیے وہ مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر میکسیکو کے راستے پاکستان پہنچیں۔ ان حالات نے بچوں کے مستقبل اور ان کی حفاظت کے حوالے سے والد کی تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے قانونی نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہیگ کنوینشن کے بین الاقوامی قانون کے مطابق، بچوں کو اسی ملک واپس بھیجا جانا چاہیے جہاں ان کی پیدائش ہوئی ہے۔ چونکہ پاکستان بھی ہیگ کنوینشن ڈکلیئریشن پر دستخط کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے بچے قانونی طور پر امریکہ واپس بھیجے جانے کے حقدار ہیں۔ سندھ ہائیکورٹ نے ان تمام دلائل کو سننے کے بعد بچوں کی والدہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 4 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں