اسلام آباد (ویب ڈیسک) 29 جون 2026
پاکستان سے پولیو وائرس کے ہمیشہ کے لیے خاتمے کی حکومتی کوششوں کے دوران صوبہ سندھ سے ایک انتہائی اہم اور بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزیر برائے صحت سید مصطفیٰ کمال نے تصدیق کی ہے کہ سندھ میں انسدادِ پولیو مہمات کے مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں اور حالیہ ماحولیاتی نمونوں (Environmental Samples) کے حوصلہ افزاء نتائج صوبے کو پولیو فری بنانے کی سمت میں ایک تاریخی پیش رفت ہیں۔
وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ اعلامیے کے مطابق، سندھ بھر کے مختلف حساس سیوریج واٹر پوائنٹس سے حاصل کیے گئے 29 ماحولیاتی نمونوں کی لیبارٹری جانچ پڑتال کی گئی، جس میں سے 28 نمونے مکمل طور پر ‘منفی’ (Negative) رپورٹ ہوئے ہیں۔ ہیلتھ کونسل کی رپورٹ کے مطابق، یہ اگست 2023 کے بعد سے اب تک صوبے میں منفی ماحولیاتی نمونوں کی سب سے بڑی تعداد ہے، جو وائرس کے پھیلاؤ میں واضح اور نمایاں کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔
| سندھ پولیو ماحولیاتی نمونے (رپورٹ 2026) | کل حاصل کردہ نمونے | منفی رپورٹ ہونے والے نمونے | موجودہ صورتحال اور کامیابی |
| کراچی ڈویژن | 12 | 11 | تاریخ میں پہلی بار 11 نمونے منفی آئے۔ |
| دیگر ڈویژنز (اندرونِ سندھ) | 17 | 17 | 100% فیصد نمونے پاک رپورٹ ہوئے۔ |
| مجموعی تعداد | 29 | 28 | اگست 2023 کے بعد سب سے بڑی کامیابی۔ |
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے تفاصیل بتاتے ہوئے کہا کہ صوبائی دارالحکومت کراچی ڈویژن میں پولیو وائرس کی مقامی گردش میں غیر معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں 12 میں سے 11 نمونے پہلی مرتبہ منفی آئے۔ اس کے علاوہ، اندرونِ سندھ کے اضلاع قمبر اور کشمور میں ایک طویل عرصے کے بعد پولیو وائرس کی منتقلی کا کامیابی سے خاتمہ کر دیا گیا ہے، جبکہ بدین اور میرپورخاص میں مسلسل دوسرے مہینے بھی تمام نمونے منفی آئے۔ انہوں نے اس کامیابی کو فرنٹ لائن پولیو ورکرز کی انتھک محنت اور وفاقی و صوبائی اداروں کی مربوط حکمتِ عملی کا نتیجہ قرار دیا۔
وزارتِ صحت کے مطابق، سال 2026 کے دوران اب تک ملک گیر سطح پر دو قومی اور ایک سب نیشنل (ذیلی) انسدادِ پولیو مہم کامیابی سے چلائی جا چکی ہے۔ مزید برآں، آنے والے مہینے جولائی 2026 میں کراچی کے مخصوص پسماندہ اور حساس علاقوں میں ایک خصوصی ٹارگٹڈ پولیو مہم شروع کی جائے گی تاکہ وائرس کے ممکنہ بقایا اثرات کا بھی جڑ سے خاتمہ کیا جا سکے۔ وزیر صحت نے عزم دہرایا کہ ‘پولیو فری پاکستان’ ریاست کی اولین ترجیح ہے اور ہر پاکستانی بچے کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
