نیویارک: جیفری ایپسٹین کیس کی 35 لاکھ صفحات پر مشتمل خفیہ دستاویزات عوامی نمائش کے لیے پیش

’انسٹی ٹیوٹ آف پرائمری فیکٹس‘ نے تمام فائلز کو 3 ہزار 400 سے زائد جلدوں میں مرتب کر دیا؛ نمائش کا مقصد حقائق کو عوام کے سامنے لانا ہے

ویب ڈیسک 13 مئی 2026

نیویارک میں ایک امریکی ہیومن رائٹس تنظیم نے بدنام زمانہ سرمایہ کار اور جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ تمام خفیہ فائلز کو ایک منفرد نمائش کی صورت میں پیش کر دیا ہے۔ ان دستاویزات کی مجموعی تعداد تقریباً 35 لاکھ صفحات پر مشتمل ہے، جنہیں واشنگٹن میں قائم غیر منافع بخش تنظیم ’انسٹی ٹیوٹ آف پرائمری فیکٹس‘ نے 3 ہزار 437 جلدوں میں نہایت ترتیب کے ساتھ شیلفوں پر سجایا ہے۔ اس نمائش کو ’دی ڈونلڈ جے ٹرمپ اینڈ جیفری ایپسٹین میموریل ریڈنگ روم‘ کا نام دیا گیا ہے، جہاں سچائی کو دستاویزی شکل میں عوام کے سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔

نیویارک کے علاقے ٹرائی بیکا میں قائم اس نمائش کے حوالے سے تنظیم کی ویب سائٹ پر یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ جب حقائق پرنٹ شدہ شکل میں سامنے موجود ہوں تو ان سے انکار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ نمائش کے منتظم ڈیوڈ گیریٹ کے مطابق، اس منصوبے کا مقصد ان الزامات کی حقیقت جاننا ہے کہ کیا ٹرمپ انتظامیہ نے جان بوجھ کر ان دستاویزات کے اجرا کے دوران کچھ خاص حقائق یا سابق صدر اور ایپسٹین کے درمیان طویل تعلقات کے شواہد کو چھپانے کی کوشش کی تھی۔ اس لائبریری میں آنے کے لیے دلچسپی رکھنے والے افراد کو آن لائن رجسٹریشن کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

اگرچہ یہ لاکھوں صفحات نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں، تاہم عام عوام کو انہیں براہِ راست پڑھنے کی مکمل اجازت نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ امریکی محکمہ انصاف کی وہ تکنیکی غلطی بتائی جاتی ہے جس کے تحت بعض متاثرین کے نام مناسب طریقے سے حذف نہیں کیے جا سکے تھے۔ فی الحال صرف صحافیوں، قانونی ماہرین اور مخصوص پیشہ ور افراد کو ہی ان فائلز تک محدود رسائی دی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ جیفری ایپسٹین 2019 میں کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ اور جنسی جرائم کے سنگین مقدمات کے دوران وفاقی تحویل میں ہلاک ہو گیا تھا، اور اب یہ دستاویزات ان کی زندگی اور بااثر شخصیات سے ان کے تعلقات کے گرد گھومتی پراسراریت سے پردہ اٹھانے کے لیے پیش کی گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں