یو اے ای سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں بے بنیاد ہیں، وزارتِ داخلہ کی وضاحت

کسی خاص طبقے کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی رپورٹس بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا قرار
ویب ڈیسک
09 مئی 2026
وزارتِ داخلہ نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے پاکستانی شہریوں، بالخصوص کسی خاص طبقے کی مبینہ بے دخلی سے متعلق سوشل میڈیا پر جاری خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے، حکومتی اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یو اے ای سے کسی مخصوص گروہ یا طبقے کو ڈی پورٹ کرنے کی خبریں من گھڑت اور گمراہ کن ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس طرح کا پروپیگنڈا صرف عوامی سطح پر تشویش اور غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
ترجمان وزارتِ داخلہ کے مطابق کسی بھی ملک سے شہریوں کی واپسی ایک معمول کا قانونی عمل ہوتا ہے جو ویزا شرائط کی خلاف ورزی، قیام کی مدت ختم ہونے یا مقامی قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی صورت میں عمل میں لایا جاتا ہے، لہٰذا اگر کسی انفرادی کیس میں کسی شہری کو واپس بھیجا گیا ہے تو اسے کسی امتیازی پالیسی سے جوڑنا سراسر غلط ہے، پاکستانی شہری پہلے کی طرح اب بھی متحدہ عرب امارات میں ملازمت کے مواقعوں اور سفری سہولیات سے بلا امتیاز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

حکام نے مزید کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے تحفظ کے لیے دفترِ خارجہ ہمہ وقت متحرک ہے اور اگر کسی شہری کو کوئی قانونی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو اسے سفارتی سطح پر حل کیا جاتا ہے، وزارتِ داخلہ نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی غیر تصدیق شدہ افواہوں پر کان نہ دھریں جو دوست ممالک کے ساتھ پاکستان کے برادرانہ تعلقات کو متاثر کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتی ہیں، حکومت ملک دشمن عناصر کی جانب سے پھیلائی جانے والی ایسی جعلی خبروں کا مکمل سدِباب کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں