صبا قمر کا متنازع کردار: ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کی زندگی پر ڈرامہ، عوامی بحث کا آغاز

کراچی ویب ڈیسک | 1 جون 2026

حال ہی میں سوشل میڈیا پر یہ اطلاعات تیزی سے گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان کی معروف اور باصلاحیت اداکارہ صبا قمر ایک نجی پروڈکشن ہاؤس کے تحت بننے والے ڈرامے میں ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کا مرکزی کردار ادا کرتی نظر آئیں گی۔ اس مجوزہ منصوبے کے حوالے سے ایک تصویر بھی سامنے آئی ہے جس میں صبا قمر کو پروڈیوسرز عبداللہ کادوانی اور اسد قریشی کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔

اداکارہ مومنہ اقبال کی مہندی کی تصاویر وائرل: شوہر حمزہ حبیب کے نام جذباتی پیغام

میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ اس ڈرامے کی تحریر کے فرائض معروف صحافی شاہزیب خانزادہ انجام دے رہے ہیں، تاہم ابھی تک کسی بھی پروڈکشن ہاؤس یا اداکارہ کی جانب سے اس منصوبے کے بارے میں باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔

اس خبر کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر ایک نئی اور گرما گرم بحث نے جنم لے لیا ہے۔ صارفین کی ایک بڑی تعداد اس مجوزہ ڈرامے کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے اور ناقدین کا ماننا ہے کہ کسی ایسی متنازع شخصیت کی زندگی پر ڈرامہ بنانا جس کا عدالتی مقدمہ تاحال زیرِ سماعت ہے، اخلاقی اور قانونی طور پر مناسب نہیں ہے۔ تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ معاشرے میں منفی کرداروں کو نمایاں کرنے کے بجائے مثبت اور تعمیری مواد پر توجہ دی جانی چاہیے۔

ٹک ٹاکر حکیم بابر کو شربت میں مبینہ زہر کس نے دیا ؛ پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا

بعض صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ فاطمہ جناح، بانو قدسیہ اور ڈاکٹر عارفہ سیدہ جیسی عظیم تاریخی اور ادبی شخصیات کی زندگیوں کو اسکرین پر لانے کے بجائے اس طرح کے موضوعات کا انتخاب کیوں کیا جا رہا ہے، جن کا معاشرے پر اچھا اثر نہیں پڑتا۔

دوسری جانب، صبا قمر کے مداح اس خبر پر کافی پُرجوش دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ صبا قمر اپنی جاندار اور حقیقت پسندانہ اداکاری کے لیے مشہور ہیں اور وہ جس بھی کردار کو منتخب کرتی ہیں، اس میں حقیقت کا رنگ بھر دیتی ہیں۔ مداحوں کا ماننا ہے کہ اگر یہ ڈرامہ بنتا ہے، تو صبا قمر اس کردار کو بھی اپنے ماضی کے کامیاب پروجیکٹس کی طرح نہایت مہارت اور اثر انگیزی کے ساتھ پیش کر سکیں گی، جو عوامی دلچسپی کا باعث بنے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ منصوبہ حقیقت کا روپ دھارتا ہے یا یہ محض سوشل میڈیا کی قیاس آرائیاں ہیں، تاہم اس بحث نے ایک بار پھر ڈرامہ انڈسٹری میں مواد کے انتخاب پر ایک اہم سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں