ٹک ٹاکر حکیم بابر کو شربت میں مبینہ زہر کس نے دیا ؛ پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا

ٹک ٹاکر کا ملزمان پر شہرت سے حسد کا الزام؛ ہسپتال انتظامیہ نے ابتدائی معائنے میں زہر کے شواہد کی تردید کر دی، فرانزک رپورٹ کا انتظار

ویب ڈیسک | 31 مئی 2026

پنجاب کے ضلع سمبڑیال کے علاقے تھانہ بیگووالہ میں سوشل میڈیا انفلوئنسر اور معروف ٹک ٹاکر حکیم بابر کو مبینہ طور پر شربت میں زہریلی چیز پلا کر ہراساں کرنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ حکیم بابر، جو راولپنڈی کے رہائشی ہیں، عیدالاضحیٰ کے موقع پر موضع کوٹلی کھوکھراں میں ایک دعوت کے سلسلے میں موجود تھے جہاں یہ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔

واقعے کی تفصیلات اور الزام
حکیم بابر کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق، ملزمان سرور چوڑ اور صفدر نے انہیں شربت پیش کیا جس کے فوراً بعد ان کی طبیعت بگڑ گئی۔ ٹک ٹاکر نے ملزمان پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے ان کی ٹک ٹاک پر بڑھتی ہوئی مقبولیت اور شہرت سے حسد کی بنا پر انہیں زہر دینے کی کوشش کی۔

واقعے کے فوری بعد حکیم بابر کو تحصیل ہیڈکوارٹر (THQ) ہسپتال سمبڑیال منتقل کیا گیا، جہاں طبی امداد کے بعد اب ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف
دوسری جانب، ایم ایس ٹی ایچ کیو ہسپتال سمبڑیال نے واقعے کے ایک اور پہلو کی نشاندہی کی ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حکیم بابر کے ابتدائی طبی معائنے میں جسم میں زہر کے کوئی واضح شواہد نہیں ملے ہیں۔ ایم ایس نے مزید بتایا کہ حکیم بابر کو طبی جانچ کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے، تاہم حتمی تصدیق کے لیے ان کے نمونے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔

پولیس کی کارروائی
پولیس نے متاثرہ ٹک ٹاکر کے بیان پر صفدر اور سرور چوڑ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور اس واقعے کے ہر پہلو کی تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔

ٹک ٹاکر حکیم بابر کو شربت میں مبینہ زہر کس نے دیا ؛ پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا“ ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ لکھیں