وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان آج متوقع، پیٹرول سستا جبکہ ڈیزل مہنگا ہونے کا امکان

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان آج کیا جائے گا، جس میں عوام کو ایک جانب معمولی ریلیف جبکہ دوسری جانب مہنگائی کا ایک نیا دباؤ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آئندہ قیمتوں کے جائزے میں پیٹرول کی قیمت میں معمولی کمی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے جاری ہفتہ وار قیمتوں کے جائزے میں پیٹرول کی قیمت میں 3 سے 4 روپے فی لیٹر کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس ممکنہ کمی سے شہریوں کو جزوی ریلیف ملنے کی توقع ہے، خاص طور پر نجی گاڑیوں اور موٹرسائیکل استعمال کرنے والے طبقے کو اس سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں 34 سے 35 روپے فی لیٹر تک اضافے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جو کہ ٹرانسپورٹ اور اشیائے خوردونوش کی ترسیل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کا سبب بن سکتی ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں ممکنہ اضافہ ملک میں مہنگائی کی مجموعی صورتحال پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، کیونکہ زیادہ تر مال بردار گاڑیاں اور زرعی مشینری اسی ایندھن پر چلتی ہیں۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ اس تبدیلی کی بڑی وجہ ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث مقامی مارکیٹ بھی متاثر ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ ایک طرف مالی خسارے کو کم کرے اور دوسری طرف عوام کو ریلیف بھی فراہم کرے، جس کے باعث قیمتوں میں یہ متضاد رجحان سامنے آ رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ اور اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) نے نئی قیمتوں کی سمری تیار کر کے حکومت کو ارسال کر دی ہے۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا، جو آج رات 12 بجے سے نافذ العمل ہوں گی۔

عوامی حلقوں میں ممکنہ قیمتوں پر مختلف ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی معمولی کمی سے تو کوئی بڑا فرق محسوس نہیں ہوگا، تاہم ڈیزل کی قیمت میں اضافہ مہنگائی کی نئی لہر کو جنم دے سکتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ افراد نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ڈیزل مہنگا ہونے سے کرایوں میں اضافہ ناگزیر ہو جائے گا۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ حکومت کو طویل المدتی توانائی پالیسی اپنانا ہوگی تاکہ ہر پندرہ روز بعد قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے عوامی مشکلات میں اضافہ نہ ہو۔ ان کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں استحکام نہ آیا تو آئندہ دنوں میں بھی ایندھن کی قیمتوں میں مزید تبدیلیاں ممکن ہیں۔

واضح رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب ملک میں پہلے ہی مہنگائی کی شرح بلند سطح پر ہے، اور عام شہری روزمرہ اخراجات میں اضافے سے پریشان ہیں۔

حکومتی اعلان کے بعد نئی قیمتوں کا اطلاق ملک بھر میں یکساں طور پر ہوگا، اور تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (OMCs) نئی ریٹس کے مطابق فروخت کریں گی۔

وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان آج متوقع، پیٹرول سستا جبکہ ڈیزل مہنگا ہونے کا امکان“ ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ لکھیں